عورتوں کو مارنے کا شرعی حکم
قرآن پاک میں ارشاد ہوا:
"اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے۔"
(النساء: 34، ترجمہ احمد رضا خان بریلوی)
1) ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو نہ مارو“۔
حضرت عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! عورتیں اپنے شوہروں پہ دلیر ہو گئی ہیں، لہٰذا انہیں مارنے کی اجازت دیجئیے۔ (چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے اور تادیب کی رخصت دے دی. سنن ابوداؤد، رقم 2146)
تو (اپنے گھروں میں ان عورتوں کو) مار پڑی۔اب بہت ساری عورتیں (شکایت لے کے) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کا چکر کاٹنے لگیں، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آل محمد کے گھر آج رات ستر عورتیں آئیں، ہر عورت اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی، تو تم انہیں (زیادہ مارنے والے مردوں کو) بہتر لوگ نہ پاؤ گے.“
(سنن ابن ماجہ، رقم 1985 / سنن ابو داؤد، رقم 2146 / سنن الدارمی، رقم 2665)
مشہور محقق شیخ زبیر علی زئی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
2) اشعث بن قیس سے روایت ہے کہ مَیں ایک رات حضرت عمر کا مہمان بنا۔ جب آدھی رات گزر گئی تو وہ اپنی اہلیہ کو مارنے لگے۔ مَیں ان کے درمیان حائل ہو گیا۔ جب وہ اپنے بستر پر آئے تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے اشعث! میری بات یاد رکھو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:
"آدمی سے نہیں پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا؟"
(سنن ابن ماجہ، رقم 1986 / سنن ابو داؤد، رقم 2147)
محقق شیخ زبیر علی زئی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
3) حضرت عائشہ کی بہن سیدہ اسماء بنت ابوبکر بیان کرتے ہیں:
"مَیں (حضرت) زبیر (بن عوام) کی چوتھی بیوی تھی آپ ہم میں سے کسی پہ غصہ ہوتے تو کھونٹی کی ایک لکڑی توڑتے اور تب تک اس سے مارتے رہتے، جب تک وہ لکڑی ٹوٹ نہ جاتی۔"
(تهذيب الآثار للطبري [مسند عمر]، ج1 ص414 رقم 688 / تفسیر الثعلبي، ج10 ص295 / المخلصيات، ج3 ص166، رقم 2236)
مشہور سلفی عالم صالح المنجد اور محقق غلام مصطفیٰ امن پوری نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
- اسی طرح حضرت زبیر کے بیٹے عروہ نے بھی بیان کیا ہے کہ حضرت زبیر عورتوں پر بہت سخت تھے اور ان پر مساحب (کنگھی یا لکڑی کی چھڑیاں) توڑ دیا کرتے تھے۔ دیکھئے مصنف ابن أبي شيبة (ج5 ص223، رقم 25455)
- یہ بات حضرت زبیر کے پوتے ہشام بن عروہ نے بھی بیان کر رکھی ہے کہ حضرت زبیر بن عوام اپنی بیویوں کو اس قدر مارتے تھے کہ ان میں سے کسی ایک پر مشجب کی لکڑیاں توڑ دیتے تھے۔ دیکھئے مصنف عبدالرزاق (ج9 ص442، رقم 17941)
4) ام موسیٰ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب کی بیٹی عبداللہ بن ابی سفیان کے نکاح میں تھیں۔ کبھی ایسا ہوتا کہ وہ انہیں مارتے تو وہ حضرت حسن بن علی کے پاس شکایت لے کر آتیں۔ ان کے جسم پر مار کی وجہ سے لوہے کا زرہ چمٹ جاتا۔ حضرت حسن قسم کھا کر انہیں مجبور کرتے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر واپس جائیں۔
(تهذيب الآثار للطبري [مسند عمر]، ج1 ص413 رقم 687)
5) کئی صحابہ کے شاگرد ثقہ امام تابعی ابومجلز کے بارے مروی ہے: ان کے اور ان کی بیوی کے درمیان بات چیت ہو رہی تھی، پھر ابو مجلز نے لاٹھی اُٹھائی اور بیوی کے سر پر ایسی ضرب لگائی کہ خون بہنے لگا، اور حرمی نے اپنی اُنگلی کی نوک کے برابر فاصلہ دکھا کر کہا کہ اس طرح کا زخم آیا۔ ابو موسى نے کہا: حرمی نے مجھے بتایا، اور مَیں نے یہ واقعہ سفیان بن عیینہ سے بیان کیا، اور سفیان کو یہ بات پسند آئی۔
(تهذيب الآثار للطبري [مسند عمر]، ج1 ص414 رقم 689)
6) دورِ نبوی میں بھی ایک صحابیہ خاتون کا ذکر موجود ہے جس نے حضرت عائشہ سے شکایت کی اور اپنے جسم پہ پڑنے والی مار کے نشان دکھائے۔ خود حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ "اہل ایمان خاتون کا اس سے بُرا حال نہیں دیکھا، اس کی جلد (مار پڑنے کے نشانات کی وجہ سے) اس کے کپڑے سے بھی زیادہ سبز تھی۔"
دیکھئے صحیح بخاری (رقم 5825)
فوائدو نکات:
1) قرآن اور بارگاہ نبوی سے شوہروں کو بیویوں کی تادیب کے لئے انہیں مارنے کی اجازت عطا ہوئی ہے۔
2) عورتوں کو مارنے سے منع کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔
3) اس عام مارنے کی اجازت سے وہی مار مستثنیٰ ہے جس کی منع کسی دوسری شرعی دلیل سے ثابت ہو جیسا کہ چہرے پر مارنے کی ممانعت، ہڈی پسلی توڑنے کی ممانعت وغیرہ، اس کے علاوہ مارنے کی اجازت اپنے عموم پر قائم رہے گی۔
4) جب بارگاہ نبوی سے فیض یافتہ صحابیات تک کو مار پڑنے کے شرعی جواز موجود تھے اور وہاں مدینہ کی چھوٹی سی آبادی میں ایک ہی رات میں ستر ستر گھروں میں بیویوں کو مار پڑی تو آج کے گئے گزرے دور کی خواتین پہ اگر کوئی یہ شرعی حق استعمال کرے تو شرعی اعتبار سے قابل مواخذہ کیسے ہو سکتا ہے؟
5) ان خواتین کی شکایات کے باوجود مردوں کو مارنے سے روکا نہیں گیا بلکہ صرف یہ کہا گیا کہ مارنے والے مرد بہتر نہیں یعنی اس معاملے میں بہتر نہیں کیونکہ کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت عمر اور حضرت زبیر بن عوام بہتر نہیں تھے بلکہ یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے بہترین عشرہ مبشرہ میں شامل افراد ہیں۔
6) جب ایک مسلم مرد مارنے کا یہ شرعی حق اپنی مسلم بیوی پر استعمال کرے تو دوسرا کوئی یہ حق نہیں رکھتا کہ وجہ بھی پوچھ سکے۔ نیز جب شریعت نے یہ حق اسے دیا ہے تو حق استعمال کرنے پر کل قیامت کے روز بھی کسی پوچھ گچھ کا کوئی اندیشہ نہیں۔
7) اس بات کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ یہ شرعی حق کسی مہمان کے سامنے بھی اپنی بیوی کو مارنے کا جواز اپنے اندر رکھتا ہے اور یہ بات ہرگز "اسلامی اخلاقیات" کے منافی نہیں۔
8 ) اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ بہترین اسلامی ادوار میں خواتین کو اپنے شوہروں سے مار پڑنا عام معمول کی بات تھی اور وہاں یہ عمل کوئی عیب یا بُرائی نہیں سمجھا جاتا تھا۔
واللہ اعلم
تنبیہ:
پاکستانی قوانین کے تحت عورتوں کو مارنا یا ان پر تشدد کرنا جرم ہے اور ایسا کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ریاست نے مختلف قوانین کے ذریعے خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ انہیں گھر یا معاشرتی سطح پر کسی بھی قسم کی زیادتی کا سامنا نہ ہو۔
(شعیب محمد)