تخطي للذهاب إلى المحتوى
افکارنو
  • مرکزی صفحہ
  • مضامین اور تحریریں
    • قرآن
    • حدیث و تاریخ
    • سیرت
    • صحابہ کرام
    • عقیدہ و احکام
    • نقد و نظر
    • مالیات
    • متفرقات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
افکارنو
      • مرکزی صفحہ
      • مضامین اور تحریریں
        • قرآن
        • حدیث و تاریخ
        • سیرت
        • صحابہ کرام
        • عقیدہ و احکام
        • نقد و نظر
        • مالیات
        • متفرقات
      • ہمارے بارے میں
    • رابطہ

    غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کا حکم

  • كافة المدونات
  • عقیدہ و احکام
  • غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کا حکم
  • 13 يونيو 2018 بواسطة
    شعیب محمد

    غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کا حکم

    1) حضرت جریر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ "زمانہ جاہلیت میں ایک گھر تھا جسے ذوالخلصہ، کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کہا جاتا تھا۔ نبی ﷺ نے مجھے فرمایا: کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے؟ میں ایک سو پچاس سوار لے کر گیا۔ اسے ہم نے توڑ پھوڑ دیا اور اس کے مجاوروں کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد میں نے نبی ﷺ کی خدمت میں سارا قصہ بیان کیا تو آپ نے ہمارے اور قبیلہ احمس کے لئے دعا فرمائی۔"
    (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ ذی الخلصۃ، رقم4355)

    دوسری روایت میں ہے: "ذوالخلصہ یمن میں قبیلہ خثعم اور بجیلہ کا ایک گھر تھا جس میں بُت نصب تھے جن کی عبادت کی جاتی تھی۔، اسے کعبہ کہا جاتا تھا۔ حضرت جریر نے اسے آگ لگا دی اور گرا دیا۔"
    (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ ذی الخلصۃ، حدیث 4357)

    2) عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس سے دریافت کیا گیا: کیا مشرکین کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ عرب کی سرزمین پر اپنے عبادت خانے بنائیں؟ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا:
     جو شہر مسلمانوں کے ہیں، اُن میں کوئی عبادت خانہ یا گرجا گھر یا آگ کا عبادت خانہ یا صلیب نہیں بنائے جا سکتے۔ وہاں بوق نہیں بجایا جا سکتا، وہاں ناقوس نہیں بجایا جا سکتا۔ ان میں شراب یا خنزیر کو نہیں لایا جا سکتا۔ (ہاں) جب کسی علاقے کے (غیر مسلم) لوگوں کے ساتھ مصالحت ہو گئی ہو تو مسلمانوں پر یہ بات لازم ہے کہ انہوں نے ان کے ساتھ جو صلح کی ہے اسے پورا کریں۔"
     (راوی) بیان کرتے ہیں: مسلمانوں کے علاقے کی وضاحت یہ ہے کہ جو علاقے عرب کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں یا مشرکین کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہوں اور (مسلمانوں نے) انہیں مقابلہ کر کے حاصل کیا ہو۔
    (مصنف عبدالرزاق، 60/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10002)

    3) حرام بن معاویہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ہمیں خط لکھا کہ "تمھارے علاقہ میں کوئی خنزیر نہ آنے پائے اور نہ ہی تمھارے علاقہ میں صلیب کو بلند کیا جائے۔۔۔۔"
    (مصنف عبدالرزاق، 60/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10003)

    4) وہب بن نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عروہ بن محمد کو خط میں لکھا کہ وہ مسلمانوں کے علاقوں میں موجود گرجا گھروں کو منہدم کر دیں۔
     راوی بیان کرتا ہے: مَیں عروہ بن محمد کے پاس موجود تھا، وہ سوار ہو کر گرجا گھر کے پاس گئے، پھر انہوں نے مجھے بلایا، مَیں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے خط کے بارے میں گواہی دی تو عروہ نے اُس گرجا گھر کو منہدم کر دیا۔
    (مصنف عبدالرزاق، 59/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 9999)

    5) مشہور امام حسن بصری سے مروی ہے کہ "سنت یہ ہے کہ شہروں میں موجود پرانے یا نئے تمام گرجا گھروں کو منہدم کر دیا جائے۔"
    (مصنف عبدالرزاق، 60/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10001)

    6) اسماعیل بن امیہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ (مشہور تابعی) ہشام کے ساتھ حدہ سے گزرے، جہاں ایک نیا گرجا گھر بنا تھا، انہوں نے اسے منہدم کرنے کے بارے مشورہ لیا اور پھر ہشام نے اسے منہدم کروا دیا۔
    (مصنف عبدالرزاق، 59/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10000)

    ان تمام روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو ہرگز ان کے عبادت خانے بنانے یا اپنے مذہبی شعائر بجا لانے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ اسی طرح مسلمانوں کے ہاں غیر مسلموں کے عبادت خانوں کو گرانے اور ڈھانے کا عام معمول تھا۔

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ عیسائیوں کے گرجا گھروں کو ڈھانے کے بارے میں فرماتے ہیں: "مسلمانوں میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس پر انکار کرے کہ مفتوحہ علاقوں کے گرجا گھروں کا گرانا جائز ہے، اگر اس میں مسلمانوں کو کوئی نقصان نہ ہو۔" (مسألة في الكنائس، 122-123)

    دیگر معاشرتی و سماجی پابندیوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے عبادت خانوں کی اس تباہی سے صرف وہی علاقے مستثنیٰ تھے، جہاں دیگر اقوام نے اسی شرط پر مسلمانوں سے صلح کی تھی۔

    7) چنانچہ عمر بن میمون بن مہران بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خط میں لکھا کہ شام میں موجود عیسائیوں کو ناقوس بجانے سے منع کر دیا جائے۔ کہا: انہیں اس بات سے بھی منع کر دیا گیا کہ وہ (بالوں کی) مانگ نکالیں یا پیشانی کے بال کاٹیں یا اپنے مخصوص قسم کے پٹکے باندھیں۔ وہ زین پر سوار نہیں ہو سکتے، وہ پٹیاں نہیں پہن سکتے۔ ان کے عبادت خانوں کے اوپر صلیب کو بلند نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی (غیر مسلم) شخص اس میں سے کسی جرم کا مرتکب ہو اور اس سے پہلے اس کی طرف حکم آ چکا ہو تو جو شخص اس پر حملہ کرے گا، اس کا ساز و سامان حملہ کرنے والے شخص کو مل جائے گا۔ کہا: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ ان (غیر مسلموں) کی عورتوں کو اس بات سے منع کر دیا جائے کہ وہ پالکیوں پر سوار ہوں۔
    عمر بن میمون بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ان لوگوں کے عبادت خانے ڈھانے کے بارے مجھ سے مشورہ کیا تو مَیں نے کہا: انہیں منہدم نہ کریں کیونکہ اس پر ان کے ساتھ صلح ہوئی تھی تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس (ارادے) کو ترک کر دیا۔
    (مصنف عبدالرزاق، 61/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10004)

    معلوم ہوا کہ غیر مسلموں پر ناقوس بجانے، بالوں کی مانگ نکالنے، کاٹھی و زین وغیرہ پر سواری کرنے حتیٰ کہ ان کی عورتوں کے پالکیوں پر سوار ہونے تک کی پابندی عائد تھی اور اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے لئے یہ افعال جرم سمجھے جاتے تھے جس کی خلاف ورزی پر کسی کو بھی حق حاصل تھا کہ وہ اس کے مرتکب غیر مسلم پر حملہ آور ہو اور اس کا ساز و سامان لوٹ لے۔ یہاں یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہمارے ہاں پانچویں خلیفہ راشد مانے جاتے ہیں اور انتہائی رحمدل اور انصاف پسند اسلامی حکمران کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

    علاوہ ازیں شام یا کچھ دیگر علاقوں میں غیر مسلموں کے عبادت خانوں کو گرانا ترک کیا گیا یا انہیں قائم رہنے دیا گیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں سے اس پر صلح کی تھی۔ مگر اس میں بھی پابندی تھی کہ وہ نئی عبادت گاہیں نہیں بنا سکتے اور اپنے پہلے سے موجود پرانے عبادت خانوں پر ہی اکتفا کریں گے حتیٰ کہ پرانے اور خستہ ہونے پر ان کی مرمت تک نہیں کر سکتے۔

    8)  چنانچہ حضرت عمر کے دور میں اہل شام کے محاصرے کے بعد ان کے ساتھ جن شرائط پر صلح نامہ لکھا گیا، ان میں سرفہرست ان سے یہ شرائط لکھوائی گئی تھیں:

    ★ ہم اپنے ان شہرں میں اور ان کے آس پاس کوئی گرجا گھر اور خانقاہ نئی نہیں بنائیں گے۔

    ★ مذہبی عبادتگاہوں اور نہ ایسے کسی خرابی والے مکان کی اصلاح کریں گے اور جو پرانے ہو کر گرنے والے ہیں ان کی مرمت نہیں کریں گے۔
    (تفسیر ابن کثیر: تحت سورۃ توبہ آیت 29، إرشاد الفقيه لابن کثیر: 340/2، المحلی لابن حزم: 346/7، الاحکام الصغریٰ لعبدالحق الاشبیلی: 600، أحكام أهل الذمة: 1149/3)

    یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ غیر مسلموں کے لئے اگر پرانی ہوتی خستہ حال اپنی عبادت گاہوں کو درست کرنے اور ان کی مرمت کرنے پر بھی پابندی عائد تھی تو پھر اس کا نتیجہ بھی بالآخر ان کے گرنے اور تباہ ہونے کی صورت میں ہی نکل سکتا تھا۔

    غیرمسلموں کی عبادت گاہیں اور علماء

    1) وزارت اوقاف و اسلامی امور (کویت) کی زیر نگرانی سینکڑوں علماء و محققین کی محنت سے تیار ہونے والے اسلامی فقہ کے انسائیکلوپیڈیا میں یہود و نصاریٰ اور مجوس کی مختلف عبادت گاہوں کے نام اور تعارف کے بعد لکھا ہے:
    "فقہاء احکام کے لحاظ سے کنیسہ، بیعہ، صومعہ، بیت نار اور دیر وغیرہ میں فرق نہیں کرتے، اس کی اصل حضرت عمر کا وہ مکتوب ہے جو انہوں نے شام کے عیسائیوں سے صلح کے موقع پر ان کے نام لکھا تھا، جس میں یہ تھا۔۔۔۔ وہ اپنے شہروں میں یا ان کے مضافات میں کوئی دیر، کنیسہ یا راہب کی کٹیا نہیں بنائیں گے۔۔۔۔۔"
    (موسوعہ فقہیہ، ج38 ص177، مطبوعہ مجمع الفقہ الاسلامی الہند)

    2) معروف فقیہ مفتی امام تقي الدين السبكي نقل کرتے ہیں: "جو علاقے مسلمانوں نے آباد کیے جیسے بغداد، کوفہ اور بصرہ ان میں ذمیوں کو کوئی گرجا، کلیسا اور راہب کا عبادت خانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔۔۔۔کہا کہ اس پر اجماع ہے، واللہ اعلم۔"
    (فتاوى السبكي، ج2 ص405)

    3) مشہور فقیہ امام ابن قدامہ ذمیوں کے بارے لکھتے ہیں: "اور انہیں مسلم ممالک میں فروخت، کنیسہ و عبادت گاہیں قائم کرنے سے روک دیا گیا، جیسا کہ عبدالرحمٰن بن غنم سے مروی ہے۔"
    (الكافي في فقه الإمام أحمد لابن قدامة المقدسي، ج4 ص178-179)

    4) علامہ ابوالحسن ماوردی فرماتے ہیں: "دار الاسلام میں ان کے لیے نیا کلیسا یا کنیسا بنانا جائز نہیں، اگر وہ بنائیں تو اسے منہدم کردیا جائے گا۔"
    (الأحكام السلطانية للماوردي، ص226)

    5) امام ابن قیم ذمیوں کے احکام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
    "اور ان کو اختیار نہیں ہے کہ وہ فروخت کریں اور کنیسے (عبادت گاہیں) بنائیں، جیسا کہ عمر بن خطاب نے ان پہ شرائط عائد کی تھیں جو ان سے مشہور ہیں۔۔۔ یہ آئمہ اربعہ کا مذہب ہے اور جمہور کا نظریہ ہے اور ان کا بھی جنہیں خدا نے مسلمانوں کے امور کی سربراہی بخشی، وہ اسی پہ عمل پیرا رہے جیسا کہ عمر بن عبدالعزیز، جن کے بارے مسمانوں کا اتفاق ہے کہ وہ رہنمائی کے امام تھے۔"
    (أحكام أهل الذمة، ج3 ص1193)

    6) دور حاضر میں گزرے سعودی عرب کے معروف مفتی اعظم ابن باز نے لکھا: "علمائے کرام نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اسلامی ممالک میں گرجا گھروں کی تعمیر حرام ہے، اور اگر وہ نئے ہوں تو انہیں گرا دیا جائے۔۔۔"
    (حكم بناء الكنائس والمعابد الشركية في بلاد المسلمين، تقریظ، ص4)

    7) وزارت اوقاف کویت کی جانب سے دئے گئے ایک فتویٰ میں کہا گیا:
    "دارالاسلام میں غیر مسلموں کے لیے کسی عبادت گاہ کا قیام جائز نہیں ہے، اور یہ بھی جائز نہیں ہے کہ مکانات کو گرجا گھر بنانے کے لیے دی جائے، اور نہ ہی رہائشی مکانات کو غیر مسلموں کے لیے گرجا گھروں یا مندروں میں تبدیل کیا جائے۔ یہ مسلم علماء کے اس اتفاق کی وجہ سے ہے کہ دارالاسلام میں غیر مسلموں کے لیے کوئی عبادت گاہ باقی نہیں رہے گی سوائے ان ممالک کے جو صلح کی شرائط پہ فتح ہوئے اور جن میں غیر مسلم اس بات پر اقرار کرتے ہیں کہ یہ زمین ان کی ہے۔ جیسے عراق، شام اور مصر کے کچھ شہر اور دیہات۔ واللہ اعلم"
    (فتاوى قطاع الإفتاء بالكويت، ج6 ص15)

    (شعیب محمد)

    في عقیدہ و احکام
    # اسلام اسلامی مسائل تاریخ اسلام فقہی مسائل
    لونڈیوں کے احکام

    یہ ویب سائٹ علمی جستجو، مطالعہ اور فکری مباحث کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ یہاں آپ کو مذہب، تاریخ، عقیدہ و مسائل اور معاشی و مالی معاملات سے متعلق مضامین پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ قاری اپنے علم میں اضافہ کرے اور مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کر سکے۔ ہماری کوشش ہے کہ مواد سادہ، قابلِ فہم اور تحقیق پر مبنی ہو، تاکہ یہ ہر سطح کے قارئین کے لیے مفید ثابت ہو۔

    رابطہ کیجئے

    اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریریں  لکھنے والوں کی ذاتی آراء اور مطالعہ پر مبنی ہیں۔ کسی بھی ادارے، تنظیم یا جماعت کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ قاری اپنی سمجھ بوجھ اور تحقیق کے مطابق مواد سے استفادہ کرے۔

    • afkarenau@protonmail.com 
    Copyright © Company name
    مشغل بواسطة أودو - إنشاء موقع إلكتروني مجاني