خلافت کیا ہے اور اس کے انعقاد کا طریقہ کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اسلامی تاریخ سے شغف رکھنے والے ہر طالبعلم کے دل میں ہمیشہ موجود رہا ہے۔ عالم اسلام کے اندر اٹھنے والی ہر تحریک کے پیچھے خلافت کے احیاء کا نعرہ ضرور موجود رہا ہے۔ بلامبالغہ لاکھوں مسلمان نوجوان دن رات "اسلامی خلافت" کا خواب دیکھتے ہیں اور ہزاروں اس کے احیاء کی خاطر مختلف تحریکوں میں اپنی جانیں دے چکے ہیں۔
خلافت کے عنوان سے اس قدر جذباتی وابستگی کے باوجود غور طلب بات یہ ہے کہ علماء سے لے کر بڑے بڑے اسلامی قائدین اور وہ تمام نوجوان جو دن رات اس کی تبلیغ و فضائل میں مصروف کار ہیں، نے کبھی خلافت اور اس کے انعقاد کے طریقہ کو قرآن و سنت کے دلائل سے پیش ہی نہیں کیا۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ نماز و روزہ جیسے انفرادی اعمال پر ہر چھوٹی سے چھوٹی جز کی دلیل قرآن و سنت سے پیش کرنے والے پوری امت کے اس اجتماعی خلیفہ کے چناؤ یا سلیکشن کا کوئی طریقہ قرآن و سنت سے پیش نہیں کر پاتے۔
خلافت اور اس کے فضائل دن رات سُنائے جاتے ہیں، اس کے آنے پر مسلمان کس طرح ساری دنیا کے حاکم بن جائیں گے یہ خواب دکھائے جاتے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اگر یہ اتنا ہی اہم مسئلہ تھا تو اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں رہنمائی کہاں پر کی کہ خلیفہ کیسے چنا جائے گا اور کون چنے گا؟
اسلامی تاریخ سے ادنیٰ سی واقفیت رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ ہمارے اولین چاروں خلفاء کی خلافت کا انعقاد کسی ایک طریقہ پر نہیں ہوا بلکہ چاروں کے چاروں الگ الگ طریقوں سے خلیفہ بنے۔ اگر قرآن و سنت میں خلافت کا کوئی طریقہ منصوص ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ اس کو چھوڑ کر الگ الگ طریقوں سے خیلفہ چُنا جاتا؟
اس سلسلے میں پہلے خلفاء کے چناؤ سے متعلق تاریخ و روایات پر غور و فکر کیا جانا بہت ضروری ہے کہ ہم اس خیالی دنیا سے باہر آ سکیں جو صرف جذباتیت کے سہارے خالی دعووں پر کھڑی ہے۔ ایک طالبعلم کی حیثیت سے اس سلسلے میں جو روایات سامنے ہیں کوشش کروں گا کہ ان کو پیش کر سکوں تاکہ ہم سیکھنے کے عمل کو جاری رکھیں جو صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم جذباتی باتوں اور نعروں کی بجائے علم کا دامن تھام کر رکھیں۔
ان روایات سے یہ سمجھنا بھی آسان ہو جاتا ہے کہ جب اسلام کے سب سے بہترین دور میں بھی خلیفہ چننے کی صورتحال اس طرح تھی تو آج کے دور میں اس کی کوئی عملی شکل اپنانا یا زمینی سطح پر نافذ کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟
خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کی بیعتِ خلافت
(حضرت عمر فاروق کی زبانی)
حضرت عمر فاروق نے فرمایا: "دیکھو تم میں سے کسی کو یہ دھوکہ نہ لگے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت یکایک ہو گئی تھی، پھر وہ چل بھی گئی۔ بات یہ ہے کہ بلاشبہ حضرت ابوبکر کی بیعت اچانک ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو شر سے بچا لیا اور تم میں ابوبکر کی مثل کوئی شخص ایسا نہیں جس کی طرف گردنیں جھکی ہوئی ہوں۔ خبردار! تم میں سے کوئی شخص مسلمانوں کے صلاح مشورے، اتفاق رائے کے بغیر کسی کی بیعت نہ کرے۔ جو کوئی ایسا کرے گا اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ بیعت کرنے والا اور لینے والا دونوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
واضح رہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر ہم میں سے بہتر تھے البتہ انصار نے ہماری مخالفت کی تھی اور وہ سب لوگ ثقیفہ بنو ساعدہ میں جمع ہو گئے تھے۔ اسی طرح حضرت علی، حضرت زبیر اور ان کے ساتھیوں نے بھی ہماری مخالفت کی تھی، تاہم مہاجرین حضرت ابوبکر کے پاس جمع ہو گئے۔
اس وقت میں نے حضرت ابوبکر سے کہا: ابوبکر! ہمیں آپ اپنے ان انصار بھائیوں کے پاس لے چلیں، چنانچہ ہم ان سے ملاقات کے لئے چل پڑے، پھر جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ہمیں ان کے دو نیک آدمی ملے۔ انہوں نے وہ چیز ذکر کی جس پر انصار کا اتفاق ہوا تھا۔ انہوں نے کہا: اے مہاجرین کی جماعت! تم کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے کہا: ہم اپنے انصار بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: آپ حضرات وہاں ہرگز نہ جائیں بلکہ ازخود جو کرنا ہے اسے عملی جامہ پہنا دیں۔ مَیں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم وہاں ضرور جائیں گے، چنانچہ ہم آگے بڑھے اور انصار کے پاس سقیفہ بنو ساعدہ میں پہنچے۔ مجلس میں ایک صاحب چادر اپنے سارے جسم پر لپیٹے درمیان میں بیٹھے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے کہا: انہین کیا ہوا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہیں بخار ہے۔
(انصار کا موقف)
جب ہم تھوڑی دیر وہاں بیٹھے تو ان کے خطیب نے خطبہ پڑھا اور اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان حمد و ثنا کی۔ پھر گویا ہوئے: ہم دین الٰہی کے مددگار اور لشکر اسلام ہیں۔ اے مہاجرین کی جماعت! تم ایک گروہ ہو۔ تم یہ تھوڑی سی تعداد اپنی قوم سے نکل کر ہمارے پاس آئی ہے۔ تم یہ چاہتے ہو کہ ہماری بیخ کنی کر کے خود خلیفہ بن جاؤ اور ہمیں اس سے محروم کر دو، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔
(حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا مئوقف)
جب وہ اپنی تقریر پوری کر چکے تو میں نے ارادہ کیا کہ گفتگو کروں۔ میں نے ایک عمدہ تقریر اپنے ذہن میں ترتیب دے رکھی تھی۔ میری انتہائی خواہش تھی کہ حضرت ابوبکر کے بات کرنے سے پہلے ہی میں اپنی تقریر کا آغاز کروں اور انصار کی باتوں سے حضرت ابوبکر کو جو غصہ آیا ہے میں اس کو دور کروں۔ تاہم جس وقت میں نے تقریر کرنے کا ارادہ کیا تو ابوبکر نے فرمایا: تم خاموش رہو۔ میں حضرت ابوبکر کو غصہ دلانا نہیں چاہتا تھا۔ آخر انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ اللہ کی قسم وہ مجھ سے زیادہ زیرک، بردبار اور باوقار تھے۔ اللہ کی قسم! انہوں نے کوئی بات نہ چھوڑی جو میں نے بہترین پیرائے میں سوچ رکھی تھی مگر انہوں نے فی البدیہہ اس جیسی بلکہ اس سے بھی بہترین تقریر کی، پھر وہ خاموش ہو گئے۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا:
"انصار بھائیو! تم نے اپنی فضیلت اور بزرگی میں جو کچھ کہا ہے وہ سب درست ہے۔ یقیناً تم اس کے سزاوار ہو مگر خلافت قریش کے علاوہ کسی دوسرے خاندان کے لئے نہیں ہو سکتی کیونکہ قریش ازروئے نسب اور ازروئے خاندان تمام عرب قوموں سے بڑھ کر ہیں۔ اب تم لوگ ایسا کرو کہ ان دو آدمیوں میں سے کسی ایک کے ہاتھ پر بیعت کر لو۔"
حضرت ابوبکر نے میرا اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ پکڑا جو ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی ساری گفتگو میں صرف یہی آخری بات مجھے ناگوار گزری۔ اللہ کی قسم! مجھے آگے کر دیا جاتا اور میری گردن اڑا دی جاتی تو یہ مجھے اس گناہ سے زیادہ پسند تھا کہ مجھے ایک ایسی قوم کا امیر بنایا جائے جس میں حضرت ابوبکر موجود ہوں۔ میرا اب تک یہی مئوقف ہے الا یہ کہ مجھے میرا نفس بہکا دے اور میں کوئی دوسرا خیال کروں جو میرے دل میں نہیں۔
(ایک انصاری صحابی کا ایک اور مشورہ)
پھر انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا: خبردار! میں ایک ایسی لکڑی ہوں جس سے خارشی اونٹ اپنا بدن رگڑ کر شفا پاتے ہیں اور مَیں وہ باڑ ہوں جو درختوں کے ارد گرد ان کی حفاظت کے لئے لگائی جاتی ہے۔ مَیں تمھیں ایک عمدہ تدبیر بتاتا کہ تم دو خلیفے بنا لو: ایک ہماری قوم کا اور ایک قریش والوں کا۔
(بیعت کا آغاز)
پھر شوروغل زیادہ ہو گیا اور آوازیں بلند ہونے لگیں۔ مجھے ڈر لگا کہ مبادا مسلمانوں میں پھوٹ پڑ جائے۔ بالآخر میں نے کہا: اے ابوبکر! اپنا ہاتھ بڑھاؤ۔ انہوں نے ہاتھ بڑھایا تو مَیں نے ان سے بیعت کی، پھر مہاجرین نے بھی بیعت کی، اس کے بعد انصار نے بیعت کی۔
ہم حضرت سعد بن عبادہ کے پاس گئے تو انصار میں سے کسی نے کہا: تم نے سعد بن عبادہ کو قتل کر دیا ہے۔ مَیں نے کہا: اللہ نے اس کا خون کیا ہے۔
(اچانک بیعت کیوں شروع کی گئی؟ حضرت عمر کا مئوقف)
حضرت عمر نے یہ بھی فرمایا: ہم نے پیش آمدہ امر سے حضرت ابوبکر کی بیعت سے زیادہ کوئی اور معاملہ اہم نہ پایا کیونکہ ہمیں اندیشہ تھا کہ اگر ہم اسی حالت میں لوگوں سے جدا ہو گئے اور ہم نے کسی کی بیعت نہ کی تو لوگ ہمارے بعد کسی شخص کی بیعت کر لیں گے تو پھر ہم ایسے شخص کی بیعت کرتے جس سے ہم خوش نہ تھے یا ان کی مخالفت کرتے تو فساد برپا ہوتا۔ جو شخص کسی دوسرے کی مسلمانوں کے مشورے کے بغیر بیعت کرے گا تو دوسرے لوگ بیعت کرنے والے کی پیروی نہ کریں اور نہ اس کی بات مانی جائے جس سے بیعت کی گئی ہے کیونکہ وہ دونوں قتل کر دیے جائیں گے۔"
(صحیح بخاری، کتاب الحدود، باب رجم الحبلیٰ فی الزنا اذا احصنت، حدیث 6830، طبع دارالسلام)
حضرت علی کا حضرت ابوبکر کی بیعت کرنا
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ "رسول اللہ ﷺکی دختر حضرت فاطمہ نے حضرت ابوبکر صدیق کی طرف پیغام بھیجا، وہ رسول اللہ ﷺ کے اس ورثے میں سے اپنی وراثت کا مطالبہ کر رہی تھیں جو اللہ نے آپ کو مدینہ اور فدک میں بطور فے دیا تھا اور جو خیبر کے خمس سے باقی بچتا تھا تو حضرت ابوبکر نے کہا:
بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: "ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا، ہم جو چھوڑیں گے وہ صدقہ ہو گا اور محمدﷺ کا خاندان اس مال میں سے کھاتا رہے گا۔" اور اللہ کی قسم! مَیں رسول اللہﷺ کے صدقے کی اس کیفیت میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں کروں گا جس پر وہ رسول اللہ ﷺکے عہد میں تھا اور مَیں اسی طریقے پر عمل کروں گا جس پر رسول اللہ ﷺ نے عمل فرمایا۔
(حضرت فاطمہ کی ناراضگی اور وفات)
حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ کو کچھ دینے سے انکار کیا تو اس معاملے میں حضرت فاطمہ حضرت ابوبکر پر ناراض ہو گئیں، انہوں نے ان سے قطع تعلق کر لیا اور ان سے بات چیت نہ کی حتیٰ کہ وفات پا گئیں۔ وہ رسول اللہ ﷺکے بعد چھ ماہ زندہ رہیں، جب فوت ہوئیں تو ان کے خاوند حضرت علی بن ابی طالب نے انہیں رات کے وقت دفن کر دیا اور حضرت ابوبکر کو اس بات کی اطلاع نہ دی۔ حضرت علی نے ہی ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
(حضرت علی کا ارادہ بیعت اور اس کی وجہ)
حضرت فاطمہ کی زندگی میں حضرت علی کی طرف لوگوں کی توجہ تھی، جب وہ وفات پا گئیں تو حضرت علی نے لوگوں کے چہرے بدلے ہوئے پائے، اس پر انہوں نے حضرت ابوبکر سے صلح اور بیعت کرنا چاہی۔
(بیعت کے لئے حضرت ابوبکر کی طرف پیغام)
انہوں نے حضرت ابوبکر کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے یہاں تشریف لائیں اور آپ کے ساتھ کوئی اور نہ آئے۔ (ایسا) عمر بن خطاب کی آمد کو ناپسند کرتے ہوئے (کہا)۔ اس پر حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا: اللہ کی قسم! آپ ان کے ہاں اکیلے نہیں جائیں گے۔ حضرت ابوبکر نے کہا: ان سے کیا توقع ہے کہ وہ میرے ساتھ (کیا) کریں گے؟ اللہ کی قسم! مَیں ان کے پاس جاؤں گا۔
(حضرت علی کا مئوقف)
چنانچہ حضرت ابوبکر ان کے ہاں آئے تو حضرت علی بن ابی طالب نے (خطبے اور) تشہد کے کلمات کہے، پھر کہا: ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت اور اللہ نے جو آپ کو عطا کیا ہے، اس کے معترف ہیں، ہم آپ سے اس خوبی اور بھلائی پر حسد نہیں کرتے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے، لیکن آپ نے امارت (قبول کر کے) ہم پر من مانی کی ہے اور رسول اللہ ﷺ سے رشتہ داری کی بنا پر ہم سمجھتے تھے کہ ہمارا بھی کوئی حق ہے۔ وہ حضرت ابوبکر سے گفتگو کرتے رہے حتیٰ کہ حضرت ابوبکر کی دونوں آنکھیں بہ پڑیں۔
(حضرت ابوبکر کا جواب)
پھر جب حضرت ابوبکر نے گفتگو کی تو کہا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے اپنی قرابت کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی قرابت نبھانا کہیں زیادہ محبوب ہے اور اس مال کی بنا پر میرے اور آپ کے درمیان جو اختلاف ہوا ہے تو مَیں اس میں حق سے نہیں ہٹا اور مَیں نے ایسا کوئی کام نہیں چھوڑا جو مَیں نے رسول اللہ ﷺکو اس میں کرتے دیکھا تھا مگر بالکل وہی کیا ہے۔
(اعلانِ بیعت اور بیعت)
اس پر حضرت علی نے حضرت ابوبکر سے کہا: بیعت کے لئے آپ کے ساتھ (آج) پچھلے وقت کا وعدہ ہے۔ جب حضرت ابوبکر نے ظہر کی نماز پڑھائی تو منبر پر چڑھے، کلمات تشہد ادا کیے اور حضرت علی کا حال، بیعت سے ان کے پیچھے رہ جانے کا سبب اور ان کا عذر بیان کیا جو انہوں نے ان کے سامنے پیش کیا تھا، پھر استغفار کیا۔ (اس کے بعد) حضرت علی بن ابی طالب نے کلمات تشہد ادا کیے اور حضرت ابوبکر کے حق کی عظمت بیان کی اور یہ کہا کہ انہوں نے جو کیا اس کا سبب حضرت ابوبکر کے ساتھ مقابلہ بازی اور اللہ نے جو انہیں فضیلت دی ہے اس کا انکار نہ تھا لیکن ہم سمجھتے تھے کہ اس معاملے میں ہمارا بھی ایک حصہ تھا جس پر ہم پر من مانی کی گئی ہے، ہمیں اپنے دلوں میں اس پر دُکھ محسوس ہوا۔
اس پر مسلمانوں نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا، انہوں نے کہا: آپ نے درست کہا ہے اور جب وہ درست بات کی طرف لوٹ آئے تو مسلمان حضرت علی کے قریب ہو گئے۔"
(صحیح مسلم، کتاب الجہاد و السیر، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا تورث ما ترکنا فھو صدقۃ، حدیث 4580، طبع دارالسلام / صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، حدیث 4240، 4241)
حضرت امیر معاویہ کی بیعت خلافت
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں (اپنی بہن ام المومنین) حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ مَیں نے ان سے کہا: آپ نے دیکھا کہ لوگوں نے کیا کیا ہے؟ مجھے تو حکومت کا کچھ حصہ بھی نہیں ملا۔ حضرت حفصہ نے فرمایا: لوگوں کے اجتماع میں شرکت کرو، وہ تمھارا انتظار کر رہے ہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ تمھارے رُک جانے سے مزید اختلاف ہو گا۔ آخر کار ان کے اصرار پر وہ اجتماع میں گئے۔
جب لوگ حضرت معاویہ کی بیعت کر کے چلے گئے تو حضرت معاویہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اس (خلافت) کے موضوع پر جس نے کوئی بات کرنی ہے وہ اپنا سر اٹھائے، یقیناً ہم اس سے اور اس کے باپ سے خلافت کے زیادہ حقدار ہیں۔ حضرت حبیب بن مسلمہ نے کہا: اس وقت آپ نے اس بات کا جواب کیوں نہ دیا؟
حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: مَیں نے تو گرہ کھول کر بات کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ انہیں جواب دوں کہ خلافت کا تم سے زیادہ حقدار وہ شخص ہے جس نے تم سے اور تمھارے باپ سے اسلام کی سربلندی کے لئے جنگ لڑی تھی لیکن مجھے یہ خطرہ لاحق ہوا کہ مبادا میری بات سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف بڑھ جائے اور خونریزی ہو جائے اور میری طرف وہ بات منسوب کر دی جائے جو میں نے کہی نہ ہو، نیز مجھے وہ اجر و ثواب یاد آ گیا جو صبر کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جنتوں میں تیار کر رکھا ہے۔
حبیب (بن مسلمہ ) نے کہا: اچھا ہوا آپ محفوظ رہے اور فتنوں سے بچ گئے۔"
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب ٖغزوہ الخندق و ھی الاخزاب، حدیث: 4108، طبع دارالسلام)