تخطي للذهاب إلى المحتوى
افکارنو
  • مرکزی صفحہ
  • مضامین اور تحریریں
    • قرآن
    • حدیث و تاریخ
    • سیرت
    • صحابہ کرام
    • عقیدہ و احکام
    • نقد و نظر
    • مالیات
    • متفرقات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
افکارنو
      • مرکزی صفحہ
      • مضامین اور تحریریں
        • قرآن
        • حدیث و تاریخ
        • سیرت
        • صحابہ کرام
        • عقیدہ و احکام
        • نقد و نظر
        • مالیات
        • متفرقات
      • ہمارے بارے میں
    • رابطہ

    سورۃ نساء کی آیت اور نکاح میں بلوغت کی شرط

  • كافة المدونات
  • عقیدہ و احکام
  • سورۃ نساء کی آیت اور نکاح میں بلوغت کی شرط
  • 11 ديسمبر 2023 بواسطة
    شعیب محمد

    سورۃ نساء کی آیت اور نکاح میں بلوغت کی شرط

    قرآن یا شریعت نے کسی بھی جگہ نکاح کے لئے عمر یا بلوغت کی ہرگز کوئی شرط بیان نہیں کی لیکن دور حاضر میں کچھ دانشوروں کی طرف سے تسلسل کے ساتھ سورۃ نساء کی ایک آیت (6) کو نکاح کے لئے بالغ ہونے کی شرط کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے جو کہ صریحاً غلط اور خلاف حقیقت ہے۔

    چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا: "اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر ان میں ہوشیاری دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔"  (سورۃ نساء: آیت 6 / ترجمہ مولانا احمد علی لاہوری)

    1) سب سے پہلی عرض یہ ہے کہ یہ آیت نکاح یا شادی کی عمر کے تعین کے لئے بیان نہیں ہوئی بلکہ اس حوالے سے بیان ہوئی کہ یتیموں کے مال کب ان کے حوالے کئے جائیں؟ اس کا جواب دیا گیا ہے کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔

    قرآن نے یہاں کسی متعین عمر یا بلوغت کی بات سرے سے کی ہی نہیں بلکہ یتیموں کے مال ان کے حوالے کرنے کے لئے عرف کو معیار بنایا ہے۔ شادی یا نکاح کا معروف عمل بلوغت کے بعد ہے اور قرآن نے یتیموں کے مال ان کے حوالے کرنے کے لئے اسی عرف کی بات کی ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس سے کم عمر کا نکاح قرآن یا خدا تسلیم نہیں کرتے یا اس سے کم عمر میں نکاح کو ناجائز اور حرام مانتے ہیں۔

    گویا اس آیت سے کسی عمر کا تعین ثابت ہوتا ہے نہ یہ کہ فلاں متعین عمر سے کم والے کی شادی تسلیم ہی نہ ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کے متجددین کے علاوہ اس آیت سے نکاح یا شادی کی عمر کے لئے بلوغت کی شرط کو کبھی کسی نے اخذ نہیں کیا۔

    2) دوسری اہم اور اصولی بات یہ ہے کہ قرآن میں محض کسی بات کا بیان شرط یا لازمی کی تعین کے طور پہ نہیں ہوتا۔ سورۃ نساء میں ہی اس مقام سے پیچھے چند آیات پہلے  یہ بھی تو کہاگیا ہے:

    "جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔۔۔۔"

    کیا ہمارے متجددین یہ بھی مانیں گے کہ یہاں خدا نے مسلمانوں پہ لازمی قرار دیا ہے کہ جو انصاف کر سکیں وہ لازمی دو دو تین تین شادیاں کریں؟ جیسے یہاں ایک بات کا بیان لازمی اور شرط نہیں بلکہ چلتے عرف میں اجازت کے طور پہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ جو انصاف کر سکے وہ اس سے کم شادی کر نہیں سکتا یا ایک شادی کرنا حرام اور ناجائز ہے۔ اسی طرح نکاح کی عمر بھی ایک عرف کا بیان ہے، ایسا ہرگز نہیں کہ اس سے کم عمر شادی کو ناجائز یا حرام ٹھہرایا گیا ہے۔

    مولانا جاوید احمد غامدی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں: "یہ آیت اصلاً تعدد ازواج سے متعلق کوئی حکم بیان کرنے کے لیے نازل نہیں ہوئی، بلکہ یتیموں کی مصلحت کے پیش نظر تعدد ازواج کے اُس رواج سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب کے لیے نازل ہوئی ہے جو عرب میں پہلے سے عام تھا۔" (تحت سورۃ نساء آیت 3، حاشیہ8 )

    عرض ہے کہ جیسا یہ آیت اصلاً تعدد ازدواج کے لئے نازل نہیں ہوئی اسی طرح بعد والی آیت بھی اصلاً شادی کی عمر کو طے کرنے کے لئے نازل نہیں ہوئی۔ جیسا کہ یہاں محض عرب کے ایک ایک رواج کا بیان ہے اس سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ دو سے کم شادی جائز نہیں اسی طرح اگلی آیت میں شادی کی ایک معروف عمر کا بیان ہے، یہ نہیں کہ اس سے کم عمر میں نکاح کو ناجائز قرار دے دیا گیا ہے۔

    3) عرب میں کم عمر کی شادیاں ایک معلوم و معمول معاملہ تھا، اگر خدا یا رسول کی نظر میں یہ کوئی ناپسندیدہ و غلط کام ہوتا تو لازمی براہ راست اس سے روک دیا جاتا جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں بھی کم عمر کی شادی کو ناجائز یا حرام قرار نہیں دیا گیا نہ روکا گیا بلکہ سورۃ طلاق میں نابالغ کی عدت بیان کر کے ایسی شادی کے مباح ہونے پہ مہر ثبت کر رکھی ہے۔

    عرب میں یہ عام بات تھی اور اسلام کے بعد بھی کم عمری کے نکاح ہوتے رہے، صحابہ و تابعین کے ہاں یہ معمول ملتا ہے:

    ا) چنانچہ عشرہ مبشرہ میں شامل صحابی حضرت زبیر نے اپنی بیٹی کی شادی اسی وقت کروا دی تھی جب وہ پیدا ہوئی تھی۔
     (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 17627)

    ب) ہشام کے اپنے بھائی یعنی حضرت عروہ کے بیٹے کی شادی حضرت معصب کی نا بالغ بیٹی سے ہوئی تھی۔
     (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم17628)

    ت) اسی طرح حضرت عمر نے حضرت علی کی بیٹی ام کلثوم سے شادی کی جو کے صغیرہ/کمسن تھی اور لڑکیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔
     (مصنف عبدالرزاق، ج6 ص162، رقم10354)

    ج) کئی صحابہ کے شاگرد مشہور تابعین امام حسن بصری، امام قتادہ و امام زہری سے مروی ہے: "جب نابالغ بچوں کے باپ دادا ان کے نکاح کروا دیں تو ان کا نکاح درست ہو گا۔"
    (مصنف عبدالرزاق، ج6 ص164، رقم10355 / مصنف ابن ابی شیبہ، ج3 ص462، رقم16012)

    د) آئمہ محدثین نابالغ چھوٹے بچوں کے نکاح پہ باقاعدہ باب باندھتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پہ دوسری صدی ہجری کے معروف امام و محدث امام عبدالرزاق نے باب باندھا: "باب نكاح الصغيرين"

    حضرت عائشہ کے نکاح والے واقعہ اور ان کی بوقت نکاح عمر پہ بحث کو ایک طرف بھی رکھ دیا جائے تو اگر سورۃ نساء کی آیت میں نکاح کی عمر کا تعین لازم کر دیا گیا تھا تو صحابہ و تابعین یہ بات کیوں نہ جانتے تھے؟ جہاں صحابہ کرام اور تابعین کے درمیان مختلف معاملات پہ اختلاف ہوتے رہے وہاں اس مسئلہ میں کسی ایک صحابی یا تابعی نے اختلاف کیوں نہ کیا کہ قرآن کی نظر میں جب نکاح یا شادی کی عمر متعین ہے تو تم لوگ اس صریح حکم کی نافرمانی کیوں کر رہے ہو؟

    ہمارے متجددین جب یہ حوالے دیکھتے ہیں تو فوری کہتے ہیں کہ یہاں یہ کب ہے کہ صحابہ یا تابعین نے رخصتی بھی کی بلکہ صحابہ یا تابعین نے اپنے بچوں کے چھوٹی عمر میں محض نکاح کئے۔

    عرض اتنی ہے کہ یہاں ہر واقعہ میں مجھے رخصتی پہ اصرار بھی نہیں لیکن یہ تو مانئے کہ پھر سورۃ نساء میں نکاح کی عمر کا بیان بطور شرط بیان نہیں ہوا کیونکہ اگر یہ شرط تھی تو پھر رخصتی ہی نہیں چھوٹی عمر کا نکاح بھی قرآن کے حکم کے ہی خلاف ٹھہرتا ہے۔

    اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ صحابہ و تابعین سمیت کوئی بھی سورہ نساء کی اس آیت کو نکاح کی عمر کی کوئی شرط تسلیم کرتا نہ کم عمری کے نکاح کو ناجائز مانتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی بھی دور کم عمری کی شادیوں اور نکاح کر دینے کے رواج سے خالی نہیں رہا۔

    (شعیب محمد)

    في عقیدہ و احکام
    # اسلامی مسائل تاریخ اسلام حقوق نسواں شادی فقہی مسائل قرآن
    اسلام میں شادی کی کم سے کم عمر

    یہ ویب سائٹ علمی جستجو، مطالعہ اور فکری مباحث کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ یہاں آپ کو مذہب، تاریخ، عقیدہ و مسائل اور معاشی و مالی معاملات سے متعلق مضامین پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ قاری اپنے علم میں اضافہ کرے اور مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کر سکے۔ ہماری کوشش ہے کہ مواد سادہ، قابلِ فہم اور تحقیق پر مبنی ہو، تاکہ یہ ہر سطح کے قارئین کے لیے مفید ثابت ہو۔

    رابطہ کیجئے

    اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریریں  لکھنے والوں کی ذاتی آراء اور مطالعہ پر مبنی ہیں۔ کسی بھی ادارے، تنظیم یا جماعت کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ قاری اپنی سمجھ بوجھ اور تحقیق کے مطابق مواد سے استفادہ کرے۔

    • afkarenau@protonmail.com 
    Copyright © Company name
    مشغل بواسطة أودو - إنشاء موقع إلكتروني مجاني