ناروے نے تیل کی دولت کو 2 ٹریلین ڈالر کی وراثت میں کیسے بدلا ؟
وہ دریافت جس نے سب کچھ بدل دیا
دسمبر 1969 ،ناروے نے شمالی سمندر میں ایک ڈرل کرتے Ekofisk آئل فیلڈ کودریافت کیا ،جو یورپ کے سب سے بڑے سمندری تیل کے ذخائر میں سے ایک تھا۔
ایک چھوٹے ملک کے لیے، جو ماہی گیری اور شپنگ پر قائم تھا، یہ لمحہ کسی انقلاب سے کم نہ تھا۔ ناروے اچانک بے پناہ قدرتی دولت کا مالک بن گیا۔مگر اس کے بعد اس نے جو فیصلہ کیا، وہ اس انقلابی دریافت سے بھی کہیں بڑا تھا اوروہی اسے باقی دنیا سےممتاز کر گیا۔
قدرتی وسائل کا منفی اثر جسے روک دیا گیا
تاریخ ہمیں ایک تلخ سبق دیتی ہےکہ قدرتی وسائل اپنے ساتھ صرف دولت نہیں بلکہ ایک نقصان دہ اثربھی لاتے ہیں۔ ماہرین اسے "ریسورس کرس" کہتے ہیں ۔ قدرتی وسائل سے ملنے والی اچانک دولت اکثرممالک کے لئے فضول خرچی کا بڑا سبب بن جاتی ہے اور اکثر ایسے ملک اپنے ان وسائل پہ منحصر ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں عالمی سطح پہ جب قیمتیں گرتی ہیں یا ذخائر ختم ہوتے ہیں، تو ان ممالک کا نقصان مستقل ہو جاتا ہے۔
نائیجیریا، وینزویلا اور لیبیا اس کی واضح مثالیں ہیں۔ وسیع ذخائر کے باوجود، عوام کو پائیدار فائدہ نہیں ملا بلکہ صرف کرپشن، مہنگائی اور عدم استحکام نے انہیں مزید نقصان میں دھکیل دیا۔
ناروے نے بہت پہلے اس "ریسورس کرس" کو بھانپ لیا اور ایک مشکل فیصلہ لیتے ہوئے خود کو بچایا۔
دوراندیشی کا ایک انقلابی فیصلہ
1969 سے 1990 کے درمیانی عرصے میں ناروے کی ترجیح یہ رہی کہ تیل کے شعبے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے آف شور پلیٹ فارمز، ڈرلنگ ٹیکنالوجی اور متعلقہ انفراسٹرکچر میں بھرپور سرمایہ کاری کی گئی تاکہ قدرتی وسائل کو مؤثر اور پائیدار طریقے سے حاصل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے پر بھی متوازن اخراجات کیے گئے، تاکہ معیشت مستحکم رہے اور بیرونی انحصار کم سے کم ہو۔ یوں ناروے نے پہلے اپنے نظام اور صلاحیت کو مضبوط بنایااور یہ حکمت عملی بعد میں ایک خودمختار ویلتھ فنڈ کے قیام کی بنیاد بنی۔
1990 میں، ناروے نے Government Pension Fund Global قائم کیا — جو آج دنیا کا سب سے بڑا خودمختار ویلتھ فنڈ ہے. اس کے اصول سادہ مگر انتہائی سخت ہیں:
تمام تیل کی آمدنی اس فنڈ میں جائے گی
اس تمام رقم سے عالمی سطح پر سرمایہ کاری ہوگی
صرف سرمایہ کاری کا تقریباً 3فیصد سالانہ منافع خرچ کیا جا سکتا ہے
اصل سرمایہ کبھی نہیں چھیڑا جائے گا
یہ صرف مالی حکمت عملی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا نظام تھا جو آنے والے سیاستدانوں کو بھی اس دولت کے غلط استعمال سے روکے۔
تین دہائیوں کی مستقل مزاجی
ناروے کی اصل کامیابی فنڈ بنانے میں نہیں، بلکہ اس نظام پہ قائم رہنے میں ہے۔ کساد بازاری ہو، انتخابات ہوں یا عالمی بحران ، بنیادی اصول کبھی بدلے نہیں گئے۔اس فنڈ کو Norges Bank Investment Management آزادانہ طور پر چلاتا ہے، تاکہ سیاسی دباؤ سے محفوظ رہے۔ اس کا مقصدیہ کہ طویل مدتی متنوع سرمایہ کاری ہو جو ذمہ دار عالمی شراکت داری بنائے۔
پیسہ کیسے کام کرتا ہے؟
یہ فنڈ خطرناک شرطیں نہیں لگاتا، بلکہ صبر کے ساتھ متنوع سرمایہ کاری کو فروغ دیتا ہے۔ آج یہ فنڈ 70 سے زائد ممالک میں اسٹاکس، بانڈز، رئیل اسٹیٹ اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں کی تقریباً تمام بڑی لسٹڈ کمپنیوں میں حصہ رکھتا ہے، یعنی ایک لحاظ سے ناروے دنیا کی تقریباً ہر بڑی کمپنی کا حصہ دار ہے۔
اعداد و شمار جو کہانی سناتے ہیں
1996: پہلی سرمایہ کاری کی گئی
2010:اس فنڈ کی مالیت500 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی
2017: ایک ٹریلین ڈالر عبورکر لیا گیا
آج: یہ فنڈ تقریباً 2 ٹریلین ڈالر سے زائدکا حجم رکھتا ہے
یوں آج یہ فنڈ ناروے کی معیشت سے کئی گنا بڑا ہو چکا ہے اوراپنے ہر شہری کے لیے لاکھوں ڈالر کے برابر حصہ رکھتا ہے۔ حیران کن اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اب اس دولت کا بڑا حصہ صرف تیل سے نہیں آیا بلکہ سرمایہ کاری کے منافع سے حاصل ہوا ہے۔
دنیا کے لیے سبق
ناروے کا ماڈل تین بنیادی اصول سکھاتا ہے:
- خرچ نہیں، بچت کریں۔ چنانچہ فیصلے الیکشن کےلئے نہیں،بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے ہونے چاہئے۔
- صرف مقامی نہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاری کریں۔ یہ آپ کی معیشت کو بوجھ اور مہنگائی سے بچا کے رکھے گی۔
- صرف نیت نہیں، نظام بنائیں یعنی ایسا ڈھانچہ جہاں نظم و ضبط خودکار ہونہ کہ ذاتی یا چند لوگوں کی مرضی اور سمجھ پہ داؤ لگایا جائے۔
آخری نتیجہ
ایک دن ناروے کا تیل ختم ہو جائے گالیکن اس کا بنایا ہوا فنڈ موجود ہو گا۔ آج اس کی سرمایہ کاری کا منافع تیل کی آمدنی سے زیادہ ہے اوریہ سرمایہ کاری کا مضبوط نظام بن چکا ہے۔ ایک عارضی قدرتی دولت جسے مستقل مالی طاقت میں بدل دیا گیا ہے۔
ایک ایسی دنیا میں جہاں سب کچھ قلیل مدتی سوچ پر چلتا ہے ۔ناروے نے ایک نایاب فیصلہ کیا۔ اس نے مستقبل کو چنا اور مستقبل نے اسے کامیاب کر دیا۔
(شعیب محمد)