تخطي للذهاب إلى المحتوى
افکارنو
  • مرکزی صفحہ
  • مضامین اور تحریریں
    • قرآن
    • حدیث و تاریخ
    • سیرت
    • صحابہ کرام
    • عقیدہ و احکام
    • نقد و نظر
    • مالیات
    • متفرقات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
افکارنو
      • مرکزی صفحہ
      • مضامین اور تحریریں
        • قرآن
        • حدیث و تاریخ
        • سیرت
        • صحابہ کرام
        • عقیدہ و احکام
        • نقد و نظر
        • مالیات
        • متفرقات
      • ہمارے بارے میں
    • رابطہ

    فروغ اسلام میں مال و دولت کا کردار

  • كافة المدونات
  • حدیث و تاریخ
  • فروغ اسلام میں مال و دولت کا کردار
  • 10 أكتوبر 2019 بواسطة
    شعیب محمد

    فروغِ اسلام میں مال و دولت کا کردار

    اہلِ اسلام کے لئے مکی دور اور اس کے بعد مدینہ میں حالات کھٹن تھے۔ اس کے بعد بتدریج دور نبوی میں ہی مدینہ کے گرد و پیش، پھر فتح مکہ اور اس کے بعد جو فتوحات ہوئیں، ان میں مسلمانوں کو یہودیوں اور دیگر کفار سے بہت بڑی تعداد میں مال اسباب بطور غنیمت حاصل ہوا۔ اس مال و اسباب کو اسلام قبول کروانے اور ان کی تالیف قلب کے لئے بھی لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا۔

    حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی قوم کو جا کر کہا: "اے لوگو! مسلمان ہو جاؤ، اللہ کی قسم! محمد (ﷺ) اتنا کچھ دیتے ہیں کہ محتاجی کا ڈر نہیں رہتا۔"
    (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فی سخائہ، رقم 2311، دارالسلام 6020، 6021)

    فتح مکہ کے بعد صرف غزوہ حنین میں مسلمانوں کو مال غنیمت کے حاصل کو بیان کرتے ہوئے عربی سیرت نگار دکتور مہدی رزق اللہ نے مختلف حوالہ جات کو پیش کرتے ہوئے لکھا: "قیدی اور مال غنیمت کا کوئی شمار نہ تھا۔ روایت ہے کہ حنین کی جنگ کی قیدی عورتیں اور بچے چھ ہزار تھے۔ چاندی چار ہزار اوقیہ یعنی 1،60،000 درہم تھی۔ اونٹ چوبیس ہزار تھے۔ بھیڑ بکریاں چالیس ہزار سے زیادہ تھیں۔"
    (سیرت النبی، جلد دوم، ص235، مطبوعہ دارالسلام پبلشرز لاہور)

    فتح مکہ کی فتوحات کے بعد مال غنیمت کی عام اسلامی تقسیم کا بھی لحاظ نہیں رکھا گیا تھا اور نبی ﷺنے لوگوں کو اسلام کی طرف لانے کے لئے بے شمار مال خرچ کیا۔ پہلے معاملات کے مقابلے میں یہ فرق اتنا واضح تھا کہ انصار اس پر شدید برہم ہوئے۔

     حضرت انس کی مختلف روایات میں ہے کہ "جس روز مکہ فتح ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں اموال غنیمت تقسیم کئے تو انصار غضبناک ہو گئے۔" 
    جنہیں پھر یہ کہہ کر تسلی دی گئی کہ "کیا تم اس پر راضی نہیں کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم اللہ کے رسول ساتھ لے کر جاؤ؟"
    (صحیح بخاری، کتاب المغازی، رقم 4332)

    اسی طرح "جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہوازن کے اموال بطور انعام عطا فرمائے تو انصار کے کچھ لوگوں کو رنج ہوا کیونکہ نبی ﷺ نے لوگوں کو سو سو اونٹ دینا شروع کر دیے تھے۔ انصار نے کہا: اللہ تعالیٰ رسول ﷺکو معاف فرمائے، آپ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں۔"
    (صحیح بخاری، کتاب المغازی، رقم 4331)

    چنیدہ اشخاص کو سو سو اونٹوں کے عطیات دینے پر ایک شخص نے صاف کہا: "اس تقسیم میں اللہ کی رضا کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔" اس طرح کہا جانے کا نبی ﷺکو شدید رنج بھی ہوا۔
    (صحیح بخاری، کتاب المغازی، رقم 4336)

    سونے کی ایسی ہی چنیدہ تقسیم پر ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ "آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا: ہم ان لوگوں سے زیادہ اس سونے کے حقدار تھے۔" جب نبی ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو شکوہ کرتے ہوئے کہا: "تم لوگ مجھ پر اعتماد نہیں کرتے، حالانکہ اس پروردگار کو مجھ پر اعتماد ہے جو آسمانوں میں ہے اور صبح شام میرے پاس آسمان سے خبریں آتی ہیں۔"
    (صحیح بخاری، کتاب المغازی، رقم 4351)

    ان روایات سے صاف ظاہر ہے کہ مال غنیمت کی ایسی چنیدہ تقسیم صرف اس لئے کی گئی کہ لوگ اسلام میں داخل ہوں یا جو نئے لوگ اسلام میں داخل ہوئے انہیں مزید پختہ کیا جا سکے۔ اس میں بھی قریش کو خصوصی وقعت دی گئی اور اس کی خاطر اپنے ساتھیوں خصوصاً انصار کی جانب سے انتہائی سخت و تند باتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ ان باتوں پر زرا غور فرمائیں، یہ ایسی سنگین ہیں کہ اگر آج کوئی نبی ﷺ کے بارے میں کہے تو فوری طور پر اس کی گردن اتاری جانے کا فتویٰ جاری ہو جائے لیکن یہ سب ایک بڑے مقصد کی خاطر برداشت کیا جا رہا تھا۔ مختلف جنگوں میں مال غنیمت کی صورت حاصل ہونے والے اس کثیر مال و دولت کو لوگوں کو اسلام کی طرف لانے کی پرکشش پیشکش کے طور پر مدد حاصل کی گئی۔

    اس مال و دولت کی خاطر بھی لوگ تیزی سے اسلام قبول کر رہے تھے اور اس مال اسباب کی وجہ سے ان کے دل کی دنیا بدل رہی تھی۔ نبی ﷺ جو اتنا کثیر مال ان کو عطا کرتے تھے، ان کے لئے سب سے محبوب ذات بن رہے تھے۔ چنانچہ صحابی رسول حضرت صفوان بن امیہ اپنی دل کی تبدیلی کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    "اللہ کی قسم! جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مال دینا شروع کیا تو میرے دل کی حالت یہ تھی کہ آپ مجھے تمام لوگوں سے بڑھ کر ناپسند تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال دیتے رہے، دیتے رہے، حتیٰ کہ آپ مجھے سب لوگوں سے بڑھ کر محبوب ہو گئے۔"
    (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فی سخائہ، رقم 2313، دارالسلام 6022)

    صحابی رسول حضرت انس اس حقیقت کو تسلیم کرتے تھے کہ بہت سے لوگوں نے صرف دنیا کی خاطر اسلام کو قبول کیا۔ چنانچہ فرمایا: "آدمی اسلام قبول کرنے لگتا ہے تو وہ محض دنیا کا خواہشمند ہوتا ہے اور پھر جیسے ہی اسلام قبول کر لیتا ہے، اسلام اسے دنیا اور اس کی ہر چیز سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا ہے۔"
    (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فی سخائہ، حدیث 2312)

    گویا کہ لوگ اسلام کو قبول دنیا کی خاطر ہی کرتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ مال انہیں نبی ﷺ سے حاصل ہو سکے اور اسلام قبول کرنے کے بعد بھی جب مال غنیمت سے مسلسل عطیات ملتے تو آہستہ آہستہ "اسلامی تعلیمات" دل میں گھر کر جاتی تھیں۔ دوسری اہم بات یہ کہ ایک دفعہ دنیا کی خاطر اسلام قبول کر لینا ان کے پاس اب دوسرا کوئی راستہ واپسی کا نہ چھوڑتا تھا کیونکہ اسلام چھوڑنے کی صورت میں ارتداد کی سزا قتل ان کا مقدر تھی۔

    اس ساری تفصیل سے واضح ہے کہ مال و دولت کی تقسیم بھی ایک بڑا سبب اسلام کے فروغ کا بنی۔ کچھ پرانے ساتھیوں کی ناراضگیاں، من چاہی، غیر منصفانہ تقسیم کے الزامات سب اسی لئے برداشت کیا گیا کہ زیادہ سے زیادہ نئے لوگوں کو ایک دفعہ اسلام میں داخل کر لیا جائے کیونکہ پھر ان کی باسلامت واپسی ناممکن ہی تھی۔ واللہ اعلم

    (شعیب محمد)

    في حدیث و تاریخ
    # اسلام تاریخ اسلام حدیث و روایت سیرت النبی
    خاوند کا بیوی پہ حق

    یہ ویب سائٹ علمی جستجو، مطالعہ اور فکری مباحث کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ یہاں آپ کو مذہب، تاریخ، عقیدہ و مسائل اور معاشی و مالی معاملات سے متعلق مضامین پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ قاری اپنے علم میں اضافہ کرے اور مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کر سکے۔ ہماری کوشش ہے کہ مواد سادہ، قابلِ فہم اور تحقیق پر مبنی ہو، تاکہ یہ ہر سطح کے قارئین کے لیے مفید ثابت ہو۔

    رابطہ کیجئے

    اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریریں  لکھنے والوں کی ذاتی آراء اور مطالعہ پر مبنی ہیں۔ کسی بھی ادارے، تنظیم یا جماعت کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ قاری اپنی سمجھ بوجھ اور تحقیق کے مطابق مواد سے استفادہ کرے۔

    • afkarenau@protonmail.com 
    Copyright © Company name
    مشغل بواسطة أودو - إنشاء موقع إلكتروني مجاني