تخطي للذهاب إلى المحتوى
افکارنو
  • مرکزی صفحہ
  • مضامین اور تحریریں
    • قرآن
    • حدیث و تاریخ
    • سیرت
    • صحابہ کرام
    • عقیدہ و احکام
    • نقد و نظر
    • مالیات
    • متفرقات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
افکارنو
      • مرکزی صفحہ
      • مضامین اور تحریریں
        • قرآن
        • حدیث و تاریخ
        • سیرت
        • صحابہ کرام
        • عقیدہ و احکام
        • نقد و نظر
        • مالیات
        • متفرقات
      • ہمارے بارے میں
    • رابطہ

    اسلامی ریاست کے فراموش عائلی مسائل

  • كافة المدونات
  • حدیث و تاریخ
  • اسلامی ریاست کے فراموش عائلی مسائل
  • 12 نوفمبر 2018 بواسطة
    شعیب محمد

    اسلامی ریاست کے فراموش عائلی مسائل 

    1) حضرت جابر بن عبداللہ بیان فرماتے ہیں: ایک عورت حضرت عمر بن خطاب کے پاس آئی، ہم لوگ اس وقت "جابیہ" مقام پر موجود تھے۔ اس عورت نے اپنے غلام کے ساتھ نکاح کر لیا تھا تو حضرت عمر نے اسے خوب ڈانٹا، انہوں نے اسے سنگسار کرنے کا ارادہ کر لیا لیکن پھر فرمایا: "اس (غلام) کے بعد (اب) تمھارے لئے کوئی مسلمان حلال نہیں ہو گا۔"
    (مصنف عبدالرزاق، کتاب الطلاق، باب العبد ينكح سيدته، رقم 12817)

    2) قتادہ بیان کرتے ہیں: ایک عورت حضرت ابوبکر کے پاس آئی اور بولی: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر مَیں اپنے غلام کو آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کر لوں؟ تو اس میں مجھے کسی دوسرے کے ساتھ شادی کرنے کی نسبت کم مشکل ہو گی۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا: تم عمر کے پاس جا کر اس سے (یہ مسئلہ) دریافت کرو۔
    اس نے حضرت عمر سے اس بارے دریافت کیا تو حضرت عمر نے اس پر اسے مارا۔ (راوی کہتا) میرا خیال ہے کہ وہ (تکلیف سے) چلائی یا اتنا چلائی حتیٰ کہ اس کا پیشاب نکل گیا۔ اس کے بعد (حضرت عمر نے) فرمایا: "عرب اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے، جب تک ان کی خواتین کو (اس طرح غلطیوں سے) روکا جاتا رہے گا۔"
    (مصنف عبدالرزاق، کتاب الطلاق، باب العبد ينكح سيدته، رقم 12819)

    3) قتادہ بیان کرتے ہیں: ایک عورت نے اپنے غلام سے صحبت کر لی۔ اس نے حضرت عمر کے سامنے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے اس عورت سے دریافت کیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس عورت نے جواب دیا کہ مَیں یہ سمجھی تھی کہ یہ میرے لئے اسی طرح حلال ہے جیسے کسی مرد کے لئے اس کی لونڈی حلال ہوتی ہے۔ حضرت عمر نے اس عورت کے بارے صحابہ کرام سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا: اس عورت نے اللہ کی کتاب کا غلط مفہوم مراد لیا ہے تو حضرت عمر نے (اس عورت سے) کہا: یہ ضروری ہے کہ مَیں تمھیں کسی بھی آزاد شخص کے لئے اب حلال قرار نہ دوں، گویا وہ اس عورت کو سزا دینا چاہ رہے تھے۔ انہوں نے اس عورت پر حد جاری نہیں کی اور غلام کو ہدایت کی کہ وہ اس عورت کے قریب نہ جائے۔
    (مصنف عبدالرزاق، کتاب الطلاق، باب العبد ينكح سيدته، رقم 12818)

    4) عبداللہ بیان کرتے ہیں: مَیں عمر بن عبدالعزیز کے پاس موجود تھا، عربوں سے تعلق رکھنے والی ایک عورت اپنے رومی غلام کے ساتھ حاضر ہوئی اور کہا: مَیں نے اسے اپنا غلام بنایا ہے، میرے چچا زاد اس سے مجھے منع کر رہے ہیں حالانکہ میرا اس کے ساتھ وہی تعلق ہے جو کسی مرد کا اپنی لونڈی کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ مرد اپنی لونڈی سے صحبت کر سکتا ہے تو آپ میرے چچا زاد لوگوں کو میرے لئے رکاوٹ بننے سے روکیں۔ عمر بن عبدالعزیز نے اس عورت سے دریافت کیا: کیا تمھاری اس سے پہلے شادی ہو چکی ہے؟ اس عورت نے جواب دیا جی ہاں۔ عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تمھاری لاعلمی آڑے نہ آتی تو مَیں تمھیں پتھروں سے سنگسار کرواتا۔ تم لوگ اس غلام کو لے جاؤ اور اسے ایسے شخص کے ہاتھ فروخت کرو، جو اسے اس عورت کے شہر سے کسی دوسرے شہر لے کر چلا جائے۔
    (مصنف عبدالرزاق، کتاب الطلاق، باب العبد ينكح سيدته، رقم 12821)

    5) عبداللہ بن ابو ملیکہ روایت کرتے ہیں: "معاذ بن عبید اللہ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور اُن سے کہا: میری ایک لونڈی ہے، جس کے ساتھ مَیں نے صحبت کی، پھر اس لونڈی کی بیٹی بھی بڑی ہو گئی تو کیا مَیں اس لونڈی کی بیٹی کے ساتھ بھی صحبت کر سکتا ہوں؟ سیدہ عائشہ نے کہا: جی نہیں۔ (سائل نے پھر مزید) پوچھا: کیا اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا: جی نہیں! میرے اہل خانہ میں سے ایسا کوئی نہیں کرے گا اور نہ کوئی ایسا شخص کرے گا جو میری اطاعت کرتا ہو۔ (تو انہوں نے) کہا: اللہ کی قسم! مَیں تو اس وقت تک ترک نہ کروں گا، جب تک آپ یہ نہ کہہ دیں کہ اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے تو حضرت عائشہ نے یہی بات کہی کہ میرے اہل خانہ میں سے ایسا کوئی نہیں کرے گا اور نہ وہ شخص جو میری اطاعت کرتا ہو۔"
    (مصنف عبدالرزاق، کتاب الطلاق، باب جمع بين ذوات الأرحام في ملك اليمين، رقم 12731 / سنن کبریٰ بیہقی، رقم 13934 / مسند شافعی، رقم 1170)

    6) قبیصہ بن ذویب اسلمی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عثمان غنی سے ایک عورت اور اس کی بہن کے بارے دریافت کیا جو آدمی کی ملکیت میں آ جاتی ہیں تو حضرت عثمان نے فرمایا: ایک آیت ان کو حلال قرار دیتی ہے اور ایک آیت ان دونوں کو حرام قرار دیتی ہے اور مَیں خود ایسا نہیں کروں گا۔"
    (مصنف عبدالرزاق، کتاب الطلاق، باب جمع بين ذوات الأرحام في ملك اليمين، رقم 12732)

    7) عبداللہ بن نیار اسلمی سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ایک لونڈی کو حاصل کیا، جس کا نام لؤلؤة تھا۔ اس لونڈی کی ایک کمسن بیٹی تھی، جب وہ لڑکی کرنے لگی تو انہوں نے اس کی ماں کو الگ کر دیا اور لڑکی میں دلچسپی لی۔ معاملہ اسی طرح رہا حتیٰ کہ لڑکی بڑی ہو گئی تو انہوں نے اسے بھی اپنے ساتھ بطور لونڈی رکھنے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے اس بارے میں حضرت عثمان سے کے ساتھ بات کی، یہ ان کے دورِ خلافت کی بات ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا:
    "مَیں نہ تو تمھیں اس کا حکم دوں گا نہ اس سے منع کروں گا۔ اس موقع پر نیار نے کہا: جو کام آپ نہیں کریں گے، اللہ کی قسم! مَیں بھی وہ کام نہیں کروں گا۔ پھر انہوں نے اس لونڈی کو چھ سو دینار میں فروخت کر دیا اور اس لونڈی کے ساتھ صحبت نہیں کی۔"
    (مصنف عبدالرزاق، کتاب الطلاق، باب جمع بين ذوات الأرحام في ملك اليمين، رقم 12730)

    8) عکرمہ سے روایت ہے کہ "حضرت عبداللہ بن عباس اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی شخص دو بہنوں یا عورت اور اس کی بیٹی کو (بطور لونڈی) اکٹھا کر لے۔ حضرت عبدللہ بن عباس فرماتے: اُن کی آپس کی رشتہ داری کی وجہ سے وہ تمھارے لئے حرام نہیں بلکہ تمھاری رشتہ داری کی وجہ سے تعلق تمھارے لئے حرام ہیں (مطلب جن سے نکاح حرام ہیں وہ ان سے تمھارے رشتہ کی وجہ سے حرام ہیں۔) حضرت ابن عباس (بطور دلیل قرآن کی آیت) بیان کرتے: "ماسوائے ان کے جو تمھاری ملکیت ہوں۔ (النساء:24) " حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے کہ یہ آیت مطلق طور پر ذکر ہوئی ہے۔
    حضرت عبداللہ بن عباس نے معاذ بن عبداللہ کو فتویٰ دیا تھا کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کو جو سگی بہنیں ہوں یا ماں اور بیٹی ہوں، جمع کر سکتے ہیں۔"
    (مصنف عبدالرزاق، کتاب الطلاق، باب جمع بين ذوات الأرحام في ملك اليمين، رقم 12736)

    9) عمرو بیان کرتے ہیں: دو بہنوں کو جمع کرنے کے بارے حضرت ابن عباس کو حضرت علی کا قول پسند تھا، وہ یہ فرماتے تھے کہ ایک آیت ان دونوں کو حرام قرار دیتی ہے جبکہ دوسری آیت ان دونوں کو حلال قرار دیتی ہے۔ "ماسوائے ان کے جو تمھاری ملکیت ہوں۔ (النساء:24)"  یہ آیت مطلق (عام) ہے۔
    (مصنف عبدالرزاق، کتاب الطلاق، باب جمع بين ذوات الأرحام في ملك اليمين، رقم 12737)

    في حدیث و تاریخ
    # اسلامی مسائل تاریخ اسلام صحابہ کرام غلام لونڈی فقہی مسائل
    شام اور بیت المقدس کی اسلامی فتح

    یہ ویب سائٹ علمی جستجو، مطالعہ اور فکری مباحث کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ یہاں آپ کو مذہب، تاریخ، عقیدہ و مسائل اور معاشی و مالی معاملات سے متعلق مضامین پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ قاری اپنے علم میں اضافہ کرے اور مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کر سکے۔ ہماری کوشش ہے کہ مواد سادہ، قابلِ فہم اور تحقیق پر مبنی ہو، تاکہ یہ ہر سطح کے قارئین کے لیے مفید ثابت ہو۔

    رابطہ کیجئے

    اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریریں  لکھنے والوں کی ذاتی آراء اور مطالعہ پر مبنی ہیں۔ کسی بھی ادارے، تنظیم یا جماعت کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ قاری اپنی سمجھ بوجھ اور تحقیق کے مطابق مواد سے استفادہ کرے۔

    • afkarenau@protonmail.com 
    Copyright © Company name
    مشغل بواسطة أودو - إنشاء موقع إلكتروني مجاني