تخطي للذهاب إلى المحتوى
افکارنو
  • مرکزی صفحہ
  • مضامین اور تحریریں
    • قرآن
    • حدیث و تاریخ
    • سیرت
    • صحابہ کرام
    • عقیدہ و احکام
    • نقد و نظر
    • مالیات
    • متفرقات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
افکارنو
      • مرکزی صفحہ
      • مضامین اور تحریریں
        • قرآن
        • حدیث و تاریخ
        • سیرت
        • صحابہ کرام
        • عقیدہ و احکام
        • نقد و نظر
        • مالیات
        • متفرقات
      • ہمارے بارے میں
    • رابطہ

    عقیدہ و علم

  • كافة المدونات
  • نقد و نظر
  • عقیدہ و علم
  • 28 يونيو 2020 بواسطة
    شعیب محمد

    عقیدہ و علم

    عقیدہ و ایمان ماننے والوں کے ہاں مقدس ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ تجربہ و حقیقت کے مطابق ہو بلکہ ہر گروہ، فرقہ و مذہب کے مطابق اس میں فرق ہوتا ہے جسے ثابت کرنا ممکن نہیں ہوتا لیکن ہر ایک کے لئے بس مان لینا ضروری ہوتا ہے۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ عقیدہ مان لینے کا جبکہ علم جان لینے کا نام ہے۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں ہجرت کر کے آئے تو وہاں لوگوں کو کھجور کی پیداوار بڑھانے کے لئے پیوندکاری کی تکنیک استعمال کرتے دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرا نہیں خیال کہ اس کا کچھ فائدہ ہوتا ہے۔" "اگر تم لوگ یہ کام نہ کرو تو شاید بہتر ہو۔" لوگوں نے یہ عمل کرنا چھوڑ دیا تو ان کا اس سال پھل ہی گر گیا اور پیداوار کم ہو گئی۔ جب یہ معاملہ نبی صلعم تک پہنچا تو فرمایا:" تم اپنی دنیا کے معاملات بہتر جاننے والے ہو۔"

    تفصیل کے لئے دیکھئے صحیح مسلم (رقم 2361، 2362، 2663 / دارالسلام 6126، 6127، 6128)

    یہ بہتر جان لینا، اس کا علم حاصل ہو جانا، اس کا محتاج نہیں ہوتا کہ وہ کسی مقدس صحیفہ میں لکھا ہے یا کسی مقدس فرد کی جانب سے کہا گیا ہے بلکہ اس کا تجربہ و عمل اور اس کا نتیجہ فرق واضح کر دکھائے گا۔ ہوتا صرف یہ ہے کہ ہم یہ اصول سیکھنے کی بجائے بس کسی خاص واقعہ کو اسی حد تک محدود کر دیتے ہیں اور باقی چیزیں اسی طرح مقدس بن کر ہمارا عقیدہ و ایمان بنی رہتی ہیں، چاہے تجربہ کتنی ہی دفعہ ان کی حقیقت کیوں نا کھول چکا ہو۔

    چنانچہ یہ علم یا جان لینا گروہی، مسلکی، مذہبی یا نسلی و لسانی ہر طرح کی منافرانہ تقسیم سے ماورا ہوتا ہے۔ "زخمی ہونے پر زیادہ خون بہہ جانے سے موت ہو سکتی ہے" یا "پیوندکاری سے پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے" کی حقیقت کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ فائدہ اٹھانے والا مسلمان ہے یا ہندو، کوئی سنی ہے یا شیعہ، کوئی کالا ہے کہ گورا۔ علم ایسے تمام تعصبات سے آزاد ہوتا ہے، جو بھی اس سے فائدہ اٹھائے گا، حاصل کر لے گا۔

    ایک ہندو اگر یہ سمجھتا ہے کہ اس کے ہاں اولاد تب ہی ہو گی جب وہ فلاں مندر کی سیڑھیاں چڑھے گا تو یہ عقیدہ و ایمان تو ہے، علم نہیں کیونکہ اگر اولاد اس لئے ہو رہی ہوتی تو کسی مسلمان کے ہاں تو پھر اولاد ہرگز نہ ہونی چاہئے تھی۔ اگر فلاں دعا پڑھنے سے کاروبار میں برکت ہوتی ہے تو دعا نہ کرنے والوں کے ہاں تو صرف نقصان ہی نقصان ہونا چاہئے تھا۔ اگر صلیب لٹکانے سے کسی حادثے سے بچنا ممکن ہوتا کسی عیسائی کو کوئی حادثہ پیش نہ آتا اور ہر غیر مسیحی کسی حادثہ سے کبھی نہ بچتا۔

    مگر وہی بات کہ عقیدہ و ایمان مان لینے کا جبکہ علم جان لینے کا نام ہے۔ عقیدہ و ایمان مقدس ہی رہتے ہیں جبکہ علم کا سفر مسلسل جاری رہتا ہے۔

    (شعیب محمد)

    في نقد و نظر
    # نکتہ نظر
    کائنات اور کچھوا

    یہ ویب سائٹ علمی جستجو، مطالعہ اور فکری مباحث کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ یہاں آپ کو مذہب، تاریخ، عقیدہ و مسائل اور معاشی و مالی معاملات سے متعلق مضامین پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ قاری اپنے علم میں اضافہ کرے اور مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کر سکے۔ ہماری کوشش ہے کہ مواد سادہ، قابلِ فہم اور تحقیق پر مبنی ہو، تاکہ یہ ہر سطح کے قارئین کے لیے مفید ثابت ہو۔

    رابطہ کیجئے

    اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریریں  لکھنے والوں کی ذاتی آراء اور مطالعہ پر مبنی ہیں۔ کسی بھی ادارے، تنظیم یا جماعت کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ قاری اپنی سمجھ بوجھ اور تحقیق کے مطابق مواد سے استفادہ کرے۔

    • afkarenau@protonmail.com 
    Copyright © Company name
    مشغل بواسطة أودو - إنشاء موقع إلكتروني مجاني