تخطي للذهاب إلى المحتوى
افکارنو
  • مرکزی صفحہ
  • مضامین اور تحریریں
    • قرآن
    • حدیث و تاریخ
    • سیرت
    • صحابہ کرام
    • عقیدہ و احکام
    • نقد و نظر
    • مالیات
    • متفرقات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
افکارنو
      • مرکزی صفحہ
      • مضامین اور تحریریں
        • قرآن
        • حدیث و تاریخ
        • سیرت
        • صحابہ کرام
        • عقیدہ و احکام
        • نقد و نظر
        • مالیات
        • متفرقات
      • ہمارے بارے میں
    • رابطہ

    امتحان

  • كافة المدونات
  • نقد و نظر
  • امتحان
  • 9 مايو 2020 بواسطة
    شعیب محمد

    امتحان

    ایک ادارہ کی جانب سے آپ سب کے لئے امتحان کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ادارے کی مہربانی ہے کہ بغیر کسی فیس اور بغیر آپ سے پوچھے آپ سب کی انرولمنٹ اس میں کی جا چکی ہے اور آپ سب کو یہ امتحان دینا اب لازمی ہے۔

    نصاب / سلیبس:

    ٭ ادارہ کی جانب سے نصاب / سلیبس جاری کر دیا گیا ہے۔ ادارے کے نام پر بہت سے لوگ اپنا اپنا نصاب لئے گھوم رہے ہیں۔ نقالوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ دھوکہ ہو جانے کی صورت میں ذمہ دار آپ ہی ہیں۔

    امتحان گاہ:

    ٭ دوران امتحان ادارہ اپنی پسند سے کچھ امیدواروں کو نصاب / سلیبس کی کتب ان کے سامنے کھول کھول کر مہیا کرے گا اور دوسرے امیدواروں کو ممکن ہے سوالنامہ بھی کسی انجان زبان میں دیا جائے کہ چلو کرو حل۔ کوئی اس پر اعتراض کا ہرگز حق نہیں رکھتا کیونکہ ادارہ جسے چاہتا ہے، پسند کرتا ہے۔

    ٭ دورانِ امتحان انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ادارہ جس امیدوار کو چاہے ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں امتحان دینے کی سہولت دے گا اور جسے چاہے گرم تپتی دھوپ میں فرش پر بیٹھایا جائے گا۔

    وقت:

    ٭ ادارہ اپنی مرضی اور پسند سے جس امیدوار کو چاہے امتحان کے لئے جتنا چاہے وقت دینے کا حق رکھتا ہے۔ چنانچہ امتحان گاہ میں کسی کو 100 منٹ تک پرچہ حل کرنے کے لئے دئے جائیں گے اور چاہے تو کسی امیدوار سے 20 منٹ میں پرچہ چھین لیا جائے۔ جب ادارے کا مقررہ وقت کسی امیدوار پر ختم ہو جاتا ہے تو پھر اسے مہلت نہیں دی جائے گی۔

    شرائط:

    ٭ ہر امیدوار کے لئے پاسنگ مارکس حاصل کرنا ضروری ہیں، پاسنگ مارکس میں ہرگز یہ عذر قبول نہ کیا جائے گا کہ دوسروں سے وقت کم دیا گیا یا ہمیں تپتی دھوپ میں بیٹھا دیا گیا یا یہ کہ سلیبس ہماری زبان میں ہی نہ تھا یا کہ جو نصاب ہمیں ملا وہ ادارے کے نام پر کوئی اور دوکان تھی۔

    ٭ حالات کے تفاوت کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف انعامی درجات میں کمی بیشی ہو گی اور اس کا فیصلہ بھی ادارہ خود کرے گا۔

    ٭ یہ ماننا ضروری ہے کہ امتحان ہونے سے بہت عرصہ پہلے ہی ادارہ ہر امیدوار کا نتیجہ اور اس کے انعام یا سزا کا فیصلہ کر چکا ہے، جس کا وہ مکمل حق رکھتا ہے۔ حق و انصاف کا تقاضا صرف یہی ہے کہ ہر امیدوار امتحان دینے میں بہرحال بالکل آزاد ہے، اس پر کوئی زبردستی نہیں تاکہ کوئی نتائج کو پہلے سے طے شدہ نہ کہہ سکے۔

    ٭ ان تمام قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارہ کو تمام فیصلوں میں اعلیٰ و برتر ماننا لازم ہے اور یہ کہ ادارہ کا ہر فیصلہ عین عدل و انصاف پر مبنی ہے۔

    انعام و سزا:

    ٭ امتحان میں پاس ہونے والے کو لاس ویگاس / دبئی / پیرس میں اعلیٰ ترین بنگلہ مع تمام تر سہولیات تا عمر دی جائیں گی۔ فیل ہو جانے والے کو تندور میں ڈال کر بھون دیا جائے گا۔

    ٭ پریشان نہ ہوں، جو آپ سمجھ رہے ہیں، یہ وہ امتحان نہیں ہے۔ چنانچہ فیل ہونے کی صورت میں تندور میں صرف ایک بار ہی بھونا جائے گا۔ 

    نوٹ: ادارہ صرف اس کا ذمہ دار ہے جو اس نے کہا، اس کا نہیں جو آپ نے سمجھا یا کسی نے آپ کو سمجھایا۔ شکریہ

    (شعیب محمد)

    في نقد و نظر
    # نکتہ نظر
    تنہائی اور ڈرامہ

    یہ ویب سائٹ علمی جستجو، مطالعہ اور فکری مباحث کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ یہاں آپ کو مذہب، تاریخ، عقیدہ و مسائل اور معاشی و مالی معاملات سے متعلق مضامین پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ قاری اپنے علم میں اضافہ کرے اور مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کر سکے۔ ہماری کوشش ہے کہ مواد سادہ، قابلِ فہم اور تحقیق پر مبنی ہو، تاکہ یہ ہر سطح کے قارئین کے لیے مفید ثابت ہو۔

    رابطہ کیجئے

    اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریریں  لکھنے والوں کی ذاتی آراء اور مطالعہ پر مبنی ہیں۔ کسی بھی ادارے، تنظیم یا جماعت کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ قاری اپنی سمجھ بوجھ اور تحقیق کے مطابق مواد سے استفادہ کرے۔

    • afkarenau@protonmail.com 
    Copyright © Company name
    مشغل بواسطة أودو - إنشاء موقع إلكتروني مجاني