اسرار الاولیاء پہ ایک نظر
مشہور صوفی بزرگ خواجہ فرید الدین گنج شکر کے نظریات و طریق پہ ایک نظر ڈالنے کے لئے اس وقت میرے ہاتھ میں ان کے ارشادات و ملفوظات کی مشہور کتاب "اسرار الاولیاء" ہے، جسے خود ان کے داماد اور خلیفہ خواجہ بدر الدین اسحاق دہلوی نے مرتب کیا تھا۔
1) حضرت موسیٰ پہ خدا کی تجلی کا مشہور واقعہ بیان کرتے ہوئے خواجہ فرید الدین نے خدا کے حوالے سے فرمایا: "اے موسیٰ! تُو ہماری ذرہ برابر تجلی سے بے ہوش ہو گیا۔ ہمارا بھید ظاہر کر دیا۔ میرے ایسے بندے بھی ہوں گے جو آخر الزمان میں پیدا ہوں گے اور امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوں گے۔ جن پہ ہر روز ہزار مرتبہ تجلی کروں گا، پھر بھی وہ ذرہ بھر تجاوز نہ کریں گے بلکہ "انا مشتاق الی الحبیب" کی فریاد کریں گے۔۔۔۔۔ پھر حکم ہوا کہ موسیٰ! اگر لاکھ پردے بھی کرے گا تو بھی (پردے) نہیں رہیں گے۔ ہاں اگر بچنا ہے تو کسی گدڑی پوش کا خرقہ مانگ کر اس کا برقعہ بنا، البتہ وہ نہیں جلے گا۔ جب آپ نے اس طرح کیا تو اس خرقہ کا تار بھی نہ جلا۔"
(اسرار الاولیاء: ص13، اکبر بک سیلرز لاہور)
2) ایک موقع پہ فرمایا: "ایک حاصلِ حق مناجات میں کہا کرتا تھا۔ اے پروردگار! اگر تُو قیامت کے دن تُو مجھے جلائے گا یا دوزخ بھیجے گا تو مجھے تیرے جلال کی قسم کہ دوزخ کے دروازے پہ سینے سے ایک ایسی آہ نکالوں گا جو دوزخ کی ساری آگ کو نگل جائے گی، ناچیز کر دے گی۔۔۔۔۔ اس واسطے کہ اگر آتش محبت کے بالمقابل دوزخ کی سی لاکھوں آگیں جلائی جائیں تو جب صاحب عشق اپنے سینے کی آہ نکالے تو سب کو نابود کر دے گا۔۔۔۔
بعد ازاں (خود) فرمایا کہ اے درویش! درویش کے سینے میں اس قسم کی آگ رکھی گئی ہے کہ خدانخواستہ اگر ایک شعلہ اس کا نکل جائے تو عرش سے تحت الثریٰ تک سب کچھ جلا کر راکھ کر دے۔"
(اسرار الاولیاء: ص14، اکبر بک سیلرز لاہور)
3) فرمایا: "اے درویش! ایک مرتبہ مَیں، خواجہ قطب الدین بختیار اوشی اور خواجہ حمید الدین ناگوری سماع کی ایک مجلس میں تھے۔ ایک رات دن رقص کرتے رہے لیکن نماز کے وقت نماز ادا کر لیتے۔ اس اثناء میں انہوں نے میرا ہتھ پکڑ کے اُڑنا شروع کر دیا، وہاں بھی رقص ہی کرتے رہے۔" (اسرار الاولیاء: ص14، اکبر بک سیلرز لاہور)
4) بہاء الدین زکریا کا ایک واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا: "اب مَیں قسم کھا کر کہتا ہوں کے دنیا میں جس مسلمان نے میری بیعت کی ہو گی یا مجھ سے مصافحہ کیا ہو گا یا میرے فرزندوں کا ہاتھ پکڑا ہو گا یا میرے مریدوں کی بیعت کی ہو گی یا میرے خانوادہ میں بیعت کی ہو گی، وہ ہرگز ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا۔" (اسرار الاولیاء: ص23، اکبر بک سیلرز لاہور)
5) ایک موقع پہ فرمایا: "اے درویش! ایک دفعہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم زید کے گھر کے پاس سے گزر رہے تھے کہ آنخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ مبارک باہر سے زید کی بیوی پہ پڑی۔ چشم مبارک بند کر کے گزر گئے فوراً حضرت جبرائیل نے آ کر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! زید کی عورت آپ پر حلال ہے، اس سے نکاح کر لیں، اب وہ زید پہ حرام ہو گئی ہے۔ آنخضرت صلی اللہ علیہ وسلم سخت ملول ہوئے اور فرمایا: کاش! یہ آنکھ ہی نہ ہوتی جس کے دیکھنے سے اس قسم کی بات ظہور میں نہ آتی۔"
(اسرار الاولیاء: ص39، اکبر بک سیلرز لاہور)
6) فرمایا: "درویش ایسے مرتبے پہ پہنچ جاتا ہے کہ ایک ہی قدم میں عرش کے تلے اور اوپر پہنچ جاتا ہے۔"
(اسرار الاولیاء: ص66، اکبر بک سیلرز لاہور)
7) فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا حبیب کہا۔ باوجود اس عظمت و بزرگی کے جب خوفِ خدا آنخضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہ طاری ہوتا تو ایسے مستغرق ہوتے کہ دن رات کی تمیز نہ رہتی تھی۔۔۔۔"
(اسرار الاولیاء: ص92، اکبر بک سیلرز لاہور)
8۔) ایک صوفی بزرگ پیر خواجہ محمد چشتی کے بارے فرمایا: اکثر عالم تحیر میں رہتے چناناچہ تیس سال تک نہیں سوئے۔۔۔۔ سال دو سال تک کچھ نہیں کھایا پیا کرتے تھے اور رات کو آتے نماز ادا کرتے یعنی کنوئیں میں الٹے لٹک کر نماز ادا کرتے۔"
(اسرار الاولیاء: ص111، اکبر بک سیلرز لاہور)
9) خواجہ معین الدین کا قول بیان کرتے ہوئے فرمایا: "اے درویش! پیر کا فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہوتا ہے۔ پس جو پیر کا فرمان بجا لاتا ہے گویا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بجا لاتا ہے۔"
(اسرار الاولیاء: ص133، اکبر بک سیلرز لاہور)
10) ایک اور بزرگ کے حوالے سے فرمایا: "مشائخ کا ہاتھ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک ہے۔ جو مشائخ کا ہاتھ پکڑتا ہے، گویا آنخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑتا ہے۔"
(اسرار الاولیاء: ص118، اکبر بک سیلرز لاہور)
تلک عشرۃ کاملہ
ان ارشادات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ کیسے نظریات و مشغولات ہیں، جو ان مستند ترین صوفی بزرگوں کے ہاں "اصلی اور حقیقی" تصوف اور طریقت کہلاتے ہیں۔
یہ سب دیکھ کے یہ بھی جاننا مشکل نہیں کہ توہین اور گستاخی کا شور ہمارے یہاں صرف کمزور اقلیتی گروہوں کو دبانے اور ہراساں کرنے کے لئے مچایا جاتا ہے. ایک ہی طرح کی بات جس پر دوسروں کو گستاخ باور کروا کے جھوٹی غیرت و حمیت جتائی جاتی ہے، جب اپنے بڑوں کے ہاں ملتی ہے تو ساری غیرت و حمیت سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے.
نوٹ: یاد رہے کہ یہ صرف ایک صوفی بزرگ خواجہ فرید الدین گنج شکر کے ارشادات ہیں، ایسی ہی بلکہ اس سے بھی کہیں سنگین تعلیمات دیگر مستند صوفی بزرگوں سے بھی ملتی ہیں، پڑھنے والوں کی دلچسپی ہوئی اور موقع ملا تو اس سلسلے کو آگے جاری رکھا جائے گا۔ ان شاء اللہ
(شعیب محمد)