اتفاق کی کاریگری
ایک بڑے کینوس پہ جو چیز بے ترتیب بکھری ہوتی ہے، اس میں کچھ اچھا نکل آنا اتفاق ہی ہوتا ہے کہ ناکہ کاریگری.
مثال کے طور پہ پوری دنیا میں مسلسل زلزلے آتے ہیں اور جن سے ہمیشہ تباہی آتی ہے لیکن ایسے ہزاروں زلزلوں میں ایک ایسا زلزلہ آتا ہے جو عطاء آباد جھیل جیسی شاندار تخلیق کا باعث بن جاتا ہے. اپنی اصل میں یہ بھی ایک خوفناک حادثہ تھا، انسانی المیہ تھا لیکن اس کے نتیجہ میں بہرحال ایک خوبصورت جھیل بھی وجود پا گئی۔
جو مسلسل ہوتے زلزلے اور ان میں ہمیشہ ہوتی تباہی کو نظرانداز کر کے صرف جھیل دیکھے گا اسے وہ شاندار کاریگری ہی لگے گی جبکہ حقیقت میں زلزلوں سے ہمیشہ تباہی ہی ہوتی ہے، یہ کوئی کاریگری کا طریقہ نہیں ہے۔
اسی تناظر میں کچھ عرصہ پہلے لکھا تھا:
"کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پہ ایک گھسا پٹا ٹائر پڑا ہے اور اس میں بارش کا پانی جمع ہو گیا ہے.
اس ٹائر کے کنارے پہ ایک جرثومہ/جراثیم موجود ہے اور وہ سامنے کا منظر دیکھ کر سوچ رہا ہے کہ یہ دنیا کتنی رنگین ہے اور اُف! یہ سامنے کی جھیل تو کمال شاہکار کاریگری ہے."
گویا چھوٹے کینوس پہ تو ایک کوڑے کے ڈھیر میں بھی کوئی کاریگری ڈھونڈ سکتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ ردی و متعفن چیزوں کی آماجگاہ سے بڑھ کے کچھ نہیں۔
( شعیب محمد)