کتاب اور قرآن
اس بات پہ مسلمانوں کے ہاں کوئی اختلاف نہیں کہ قرآن ایک ہی بار میں نازل نہیں ہوا تھا بلکہ بتدریج موقع با موقع نبوی زندگی کے 23 سالہ عرصہ میں مختلف آیات کی صورت اترتا رہا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے:
"اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھیر ٹھیر کر اسے لوگوں کو سناؤ، اور اسے ہم نے (موقع موقع سے) بتدریج اتارا ہے۔" (سورة الإسراء/بنی اسرائیل:106/17)
ایک دوسری جگہ قرآن نے کافروں کا یہ طعن بھی نقل کیا ہے کہ "اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر یکبارگی قرآن کیوں نازل نہیں کیا گیا اسی طرح اتارا گیا تاکہ ہم اس سے تیرے دل کو اطمینان دیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ سنایا۔" (سورة الفرقان: 32/25)
اس سے بالکل صاف ظاہر ہے کہ قرآن ایک کتابی شکل میں مکمل ایک ساتھ ہرگز نازل ہی نہیں ہوا۔ مگر پورے قرآن میں بار بار اسے کتاب کہا گیا ہے:
"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے." (سورة البقرة: 2/2)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن ابھی نازل ہو رہا تھا، اس کی مختلف آیات نازل ہوتی تھیں اور وہ کسی مدون کتابی شکل میں نہیں تھا تو پھر اسے کتاب کیسے کہا گیا؟
"اس نے تجھ پر یہ سچی کتاب نازل فرمائی جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے اس کتاب سے پہلے تورات اور انجیل نازل فرمائی۔"
(سورة آل عمران: 3/3)
جب کوئی کتاب مدون شکل میں نازل ہوئی ہی نہیں تھی بلکہ متفرق آیات اور حصے نازل ہوتے تو یہ کون سی کتاب ہے، جس کے لئے کہا گیا:
"بے شک ہم نے تیری طرف سچی کتاب اتاری ہے۔" (سورة النساء: 105/4)
کیا اوپر سے کوئی کتابی شکل میں مدون نسخہ نازل ہوا تھا جس کے لئے کہا گیا:
"سب تعریف الله کے لیے جس نے اپنے بندہ پر کتاب اتاری اور اس میں ذرا بھی کجی نہیں رکھی۔" (سورة الكهف: 1/18)
کیا واقعی قرآن مکمل کتابی صورت میں اتارا گیا تھا جو فرمایا:
"وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری۔۔۔۔۔" (سورة آل عمران: 7/3)
وہ کتاب آخر تھی کہاں جس کے لئے مکی دور میں بھی کہا جا رہا تھا:
"اِس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے۔" (سورة الجاثية: 45/2)
مکہ سے لے کر مدینہ تک اترنے والی آلگ الگ آیات اور سورتوں میں بار بار اترنے والی آیات اور متفرق حصوں کو ہی کتاب کہا گیا۔
چنانچہ مکی مدنی سورتوں سمیت پورا قرآن اس سے بھرا ہوا ہے۔ دیکھئے سورۃ البقرۃ (151، 159)، سورة آل عمران (23، 79، 164)، سورۃ النساء (113، 127، 136، 140)، سورۃ المائدہ (15، 48)، سورۃ الانعام (114)، سورة الأعراف (196)، سورۃ یونس (1)، سورۃ یوسف (1)، سورۃ الرعد (1)، سورۃ الحجر (1)، سورۃ النحل (64، 89)، سورۃ الشعراء (2)، سورۃ القصص (2، 86)، سورة العنكبوت (45، 47، 51)، سورۃ لقمان (2)، سورۃ السجدۃ (2)، سورۃ فاطر (31)، سورۃ الزمر (1، 2، 41)، سورۃ غافر (2)، سورۃ الشوریٰ (17، 52)، سورۃ الاحقاف (2)، سورۃ الجمعۃ (2)
اس سب سے صاف پتا چلتا ہے کہ قرآن میں کتاب کسی مکمل مدون صورت کو ہرگز نہیں کہا گیا کیونکہ تب ایسا ممکن ہی نہ تھا کہ قرآن مسلسل وقتاً فوقتاً نازل ہو رہا تھا۔ چنانچہ ان متفرق آیات اور تھوڑے تھوڑے نازل ہوتے حصوں کو ہی قرآن میں کتاب کہا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ ہمارے وہ سادہ دل عقیدت مند اور دانشور جو آج شروع سورۃ بقرۃ میں "ذلك الكتاب لا ريب ۛ فيه ۛ" پڑھ کے یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ یہ اس موجودہ کتابی شکل کی بات ہو رہی یا قرآن تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی مکمل اس کتابی شکل میں مدون موجود تھا، وہ قرآن کے اسلوب سے شدید ناواقفیت کا شکار ہیں۔
یہ کہنا کہ ہمیں قرآن ہی کافی ہے اور قرآن پہ غور و فکر کر کے نتائج اخذ کرنا دو الگ باتیں ہیں۔
(شعیب محمد)