مرد و عورت میں 'نشوز' اور قرآن
قرآن پاک میں مرد و عورت دونوں کے لئے'نشوز' (سرکشی) ہونے کی صورت میں دوسرے فریق کو اس کا حل بتایا ہے۔
عورتوں میں 'نشوز' کا قرآنی حل:
قرآن پاک میں ارشاد ہوا:
واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن ۖ فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا ۗ إن الله كان عليا كبيرا (النساء: 34)
کسی عورت میں 'نشوز' سرکشی ہونے کی صورت میں قرآن نے یہاں جو حل بتایا ہے، اس پہ اپنی طرف سے کچھ کہنے کی بجائے مشہور اردو مترجمین کا ترجمہ پیش خدمت ہے تاکہ یہ حکم واضح ہو کے سامنے آ جائے:
1) "اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں اُن سے علیحدہ رہو اور مارو، پھر اگر تم وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو، یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالا تر ہے۔" (سید مودودی)
2) "اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے۔" (احمد رضا خان بریلوی)
3) "اور جن عورتوں سےتمہیں سرکشی کا خطرہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور سونے میں جدا کر دو اور مارو پھر اگر تمہارا کہا مان جائیں تو ان پر الزام لگانے کے لیے بہانے مت تلاش کرو بے شک الله سب سے اوپر بڑا ہے۔" (احمد علی لاہوری)
4) "اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زدوکوب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو بےشک خدا سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے۔" (مولانا جالندھری)
5) "اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وه تابعداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بے شک اللہ تعالیٰ بڑی بلندی اور بڑائی واﻻ ہے۔" (مولانا جونا گڑھی)
6) "اور (اِسی اصول پر تم کو حق دیا گیا ہے کہ) جن عورتوں سے تمھیں سرکشی کا اندیشہ ہو، اُنھیں نصیحت کرو اور اُن کے بستروں پر اُنھیں تنہا چھوڑ دو اور (اِس پر بھی نہ مانیں تو) اُنھیں سزا دو۔ پھر اگر وہ تمھاری بات ماننے لگیں تو اُن پر الزام کی راہ نہ ڈھونڈو۔ بے شک، اللہ بہت بلند ہے، وہ بہت بڑا ہے۔" (جاوید غامدی)
قرآن میں ’نُشُوْز‘ کا لفظ آیا ہے اور ان تمام تراجم سے یہ بالکل واضح ہے کہ عورتوں میں اگر یہ 'نشوز' پایا جائے تو مردوں کو انہیں جسمانی سزا دینے تک کا اختیار ہے۔ اب یہ جسمانی سزا اور مار کس حد تک ہو سکتی ہے اور اگر کوئی اس سے تجاوز کرے تو کیا اسلامی شریعت میں کہیں اس پہ روک لگانے کے کسی قانون کا ثبوت موجود ہے؟ یہ ایک الگ بحث ہے۔
مردوں میں 'نشوز' کا قرآنی حل:
مگر یہی معاملہ اگر مردوں میں پایا جائے تو وہاں عورتوں کو جو حکم و تعلیم دی گئی ہے وہ ملاحظہ فرمائیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا:
وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا ۚ والصلح خير ۗ (النساء: 128)
1) "جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کر لیں صلح بہر حال بہتر ہے۔" (سید مودودی)
2) "اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح خوب ہے۔"
(احمد رضا خان بریلوی)
3) "اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے لڑنے یا منہ پھیرنے سے ڈرے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں کسی طرح صلح کر لیں اور یہ صلح بہتر ہے۔" (احمد علی لاہوری)
4) "اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے۔" (مولانا جالندھری)
5) "اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بد دماغی اور بے پرواہی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں جو صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناه نہیں۔ صلح بہت بہتر چیز ہے۔" (مولانا جونا گڑھی)
6) "ہاں، اگر کسی عورت کواپنے شوہر سے بے زاری یا بے پروائی کا اندیشہ ہو تواُن پر گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں کوئی سمجھوتا کر لیں۔ اِس لیے کہ سمجھوتا بہتر ہے۔" (جاوید غامدی)
قرآن نے مرد و عورت دونوں کے لئے ایک ہی لفظ 'نشوز' استعمال کیا ہے اور باقی مترجمین نے بھی اگرچہ مرد کے لئے معاملہ ہلکا کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے لیکن اکثر نے دونوں کا معنی بھی کم و بیش ایک جیسا ہی بیان کیا ہے۔ ان سب میں غامدی صاحب یا کچھ دیگر کا کمال یہ ہے کہ عورت کے لئے جب یہ لفظ آیا تو اسے سرکشی سے تعبیر کیا اور جب مردوں کے لئے قرآن نے اسے استعمال کیا تو یہی بات محض بیزاری اور بے پروائی رہ گئی۔
اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ عورت کے 'نشوز' کو سنگین کر کے دکھایا جا سکے تاکہ بہرصورت مرد کے عورت کو مارنے کی اجازت کو ثابت کیا جا سکے جبکہ مردوں میں 'نشوز' کی صورت چونکہ عورت کو بہرحال صلح صفائی کا ہی حکم دیا گیا ہے تو مرد کے اس معاملے کو محض بیزاری و بے اعتنائی بتا کر ہلکا کیا جا سکے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ قرآن نے مرد و عورت میں 'نشوز' کی صورت دوسرے فریق کو الگ الگ حکم اور تعلیم دی ہے۔ عورتوں میں ہو تو مردوں کو مارنے تک کی اجازت ہے جبکہ مردوں میں ہو تو عورتوں کو صلح صفائی سے سمجھوتا کر کے ہی رکھنا چاہئے کیونکہ صلح صفائی بہتر چیز ہے۔
واللہ اعلم
(شعیب محمد)