تخطي للذهاب إلى المحتوى
افکارنو
  • مرکزی صفحہ
  • مضامین اور تحریریں
    • قرآن
    • حدیث و تاریخ
    • سیرت
    • صحابہ کرام
    • عقیدہ و احکام
    • نقد و نظر
    • مالیات
    • متفرقات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
افکارنو
      • مرکزی صفحہ
      • مضامین اور تحریریں
        • قرآن
        • حدیث و تاریخ
        • سیرت
        • صحابہ کرام
        • عقیدہ و احکام
        • نقد و نظر
        • مالیات
        • متفرقات
      • ہمارے بارے میں
    • رابطہ

    کیا قرآن کی حفاظت کا ذمہ خدا نے لیا ہے؟

  • كافة المدونات
  • قرآن
  • کیا قرآن کی حفاظت کا ذمہ خدا نے لیا ہے؟
  • 30 نوفمبر 2022 بواسطة
    شعیب محمد

    کیا قرآن کی حفاظت کا ذمہ خدا نے لیا ہے؟

    یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ قرآن پاک کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے قرآن میں لی ہے حالانکہ ان الفاظ کے ساتھ ایسی کوئی بات قرآن میں موجود نہیں۔ اس سلسلے میں جو آیت پیش کی جاتی ہے وہ کچھ یوں ہے:

    إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ   ﴿سورة الحجر ٩﴾
    "ہم نے یہ ذکر نازل کیا ہے ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔"

    اس آیت میں ذکر کے نازل کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کی بات کی گئی ہے اور بلاشبہ خدا کا ذکر کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ محفوظ رہا ہے۔ اس سے مراد صرف قرآن کے سب الفاظ ہیں، یہ دعویٰ اس دلیل سے صراحت کے ساتھ ثابت نہیں ہوتا۔

    پہلی بات یہ کہ ذکر کا لفظ صرف قرآن کے لئے خاص نہیں بلکہ قرآن ہی میں ذکر کو بہت سی جگہ ہر طرح کی نصیحت یا خدا کی یاد کے طور پہ استعمال کیا گیا ہے۔ دیکھئے الفرقان (18)، الذاريات (55).
    دوسری غور طلب بات یہ ہے کہ قرآن ایک ساتھ کتابی صورت میں نازل نہیں ہوا تھا بلکہ متفرق آیات اور سورتیں مختلف اوقات میں نازل ہوئیں۔ گویا قرآن کی الگ الگ آیات اور الگ الگ سورتیں جو نازل ہو رہی تھیں وہ سب بھی اپنی اپنی جگہ نازل کردہ ذکر ہی تھیں۔

    اب عرض یہ ہے کہ سورۃ حجر کی یہ آیت جو حفاظت قرآن پہ دلیل بنائی جاتی ہے، قرآن کی پہلی نازل ہونے والی آیت ہے نہ آخری، گویا یہ نزول قرآن کے درمیان کہیں نازل ہوئی۔ جو لوگ اس سے سارے قرآن کی حفاظت کا نظریہ نکالتے ہیں، ان سے پوچھنا ہے کہ کیا یہ آیت پہلے اور پھر بعد میں اتری ہوئی آیات کو بھی شامل ہے کہ نہیں؟
    اگر کہا جائے گا کہ ضرور کیونکہ پہلی اور بعد والی آیات بھی نازل کردہ ذکر کو شامل ہیں تو عرض ہے کہ پھر پہلے خدا کی نازل کردہ توریت اور انجیل اس میں کیوں شامل نہ سمجھی جائیں؟ کیا وہ خدا کا ذکر نہیں یا خدا کی نازل کردہ نہیں؟ اگر خدا کے نازل کردہ ہر ذکر کی حفاظت خدا کی ذمہ داری ہے تو توریت و انجیل کی حفاظت کیوں ممکن نہ ہو سکی؟ اگر کہا جائے کہ نہیں! صرف وہ نازل کردہ ذکر ہی اس حفاظت میں شامل ہے جو اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اترا تو پھر اس آیت سے پہلے نازل ہونے والی سورتیں اور آیات اس حفاظت میں کیوں اور کیسے شامل سمجھی جائیں؟

    جیسے عمومی طور پہ تو خدا کے نازل کردہ ذکر میں تو پہلی الہامی کتب اور احادیث میں مذکور دعائیں اور تذکیر وغیرہ بھی شامل ہیں، اگر ذکر کی حفاظت کا مطلب ہرگز ان سب کے ایک ایک جز کی حفاظت نہیں، اسی طرح اس سے مراد قرآن میں نازل کردہ ایک ایک آیت کی حفاظت مراد لینا بھی مشکل اور غیر واضح ہے۔ چنانچہ قرآن میں مذکور ذکر کی حفاظت سے مراد مجمل طور پر خدا کے ذکر کو محفوظ رکھنا ہی ہے۔

    احادیث میں قیامت سے قبل پورے قرآن کے اٹھا لینے اور کھینچ لینے کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ دیکھئے سنن دارمی (3209)، معجم الکبیر (8698) ۔گویا قیامت سے قبل قران کے مکمل ختم ہو جانے کا ذکر تو احادیث میں موجود ہے۔

    ایک حدیث میں اسی طرح آیا ہے کہ " قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، یہاں تک کہ زمین پر کوئی اللہ کا نام لینے والا باقی نہ رہے گا۔'' 
    (صحیح مسلم / مختصر صحیح مسلم، رقم 2020)
    اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ صرف اللہ کا نام ہی وہ ذکر ہے جو آخر قیامت تک باقی رہے گا اور باقی سب آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گا اور یہی خدا کے ذکر کی حفاظت ہے کیونکہ اس کے بعد پھر قیامت آ جائے گی۔ واللہ اعلم

    مختصر الفاظ میں گویا اس دعوے پر پیش کی جانے والی یہ آیت صریح نہیں ہے نہ اس آیت سے وہ نکلتا ہے جو ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ عموم ذکر میں تو بہت کچھ آتا ہے اور خاص کریں تو صرف اسی سورت یا صرف اسی رکوع یا جز کی بات تک خاص کرنا بھی دلیل کے مطابق ہے. واللہ اعلم

    (شعیب محمد)

    في قرآن
    # اسلام اسلامی مسائل قرآن
    حضرت عمر، حضرت ابی بن کعب اور قرآن

    یہ ویب سائٹ علمی جستجو، مطالعہ اور فکری مباحث کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ یہاں آپ کو مذہب، تاریخ، عقیدہ و مسائل اور معاشی و مالی معاملات سے متعلق مضامین پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ قاری اپنے علم میں اضافہ کرے اور مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کر سکے۔ ہماری کوشش ہے کہ مواد سادہ، قابلِ فہم اور تحقیق پر مبنی ہو، تاکہ یہ ہر سطح کے قارئین کے لیے مفید ثابت ہو۔

    رابطہ کیجئے

    اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریریں  لکھنے والوں کی ذاتی آراء اور مطالعہ پر مبنی ہیں۔ کسی بھی ادارے، تنظیم یا جماعت کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ قاری اپنی سمجھ بوجھ اور تحقیق کے مطابق مواد سے استفادہ کرے۔

    • afkarenau@protonmail.com 
    Copyright © Company name
    مشغل بواسطة أودو - إنشاء موقع إلكتروني مجاني