قرآن اور سائنس
قرآن پاک تمام اہل اسلام کے نزدیک رشد و ہدایت کا معیار ہے اور رہتی دنیا تک انسانوں کی رہنمائی کے لئے منبع ہے۔ قرآن میں کئی جگہ پر کائنات میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ کائنات کے بارے میں تحقیق اور علم حاصل کرنا ہرگز اسلام کے خلاف نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی ابتدائی صدیوں تک کئی ایک مسلمان سائنسدانوں کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے سائنس کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ مگر آہستہ آہستہ متعصب مذہبی فقہاء و علماء کی جانب سے فلسفہ و سائنس کو کفر و شرک سے تعبیر کیا جانے لگا اور بڑے بڑے مسلمان سائنسدانوں پر بھی اپنے اپنے دور میں خود مسلمان فقہاء و علماء کی جانب سے گمراہی و کفر کے فتوے لگائے گئے۔ جس کا نتیجہ پھر کچھ یوں نکلا کہ رفتہ رفتہ اسلامی دنیا سائنسی فکر سے دور ہوتی گئی اور آج جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
قرآن بذات خود کوئی سائنسی کتاب نہیں ہے نہ اس کا یہ دعویٰ ہے بلکہ سوچنے سمجھنے کی دعوت دینے والی کتاب ہے۔ سائنس یا اس کا فہم تو ہر آنے والے دور میں بہتر سے بہتر کی طرف گامزن ہے۔ ہر نیا دور اپنے سے پچھلے نظریات کو چیلنج کرتا ہے اور دلائل کے ساتھ نئے نظریات پیش کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں سائنس کو بطور علم و فکر تو پزیرائی نہ مل سکی لیکن اس کا تدارک ہمارے ہاں یوں نکالا گیا کہ جب کوئی سائنسی تحقیق یا نظریہ سامنے آتا تو ہمارے ہاں کے نابغے اسے قرآن کی کسی نہ کسی آیت سے ثابت کرنے لگتے۔ ایسے میں یہ سوال بالکل بنتا ہے کہ اگر کوئی سائنسی بات قرآن میں لکھی تھی تو خود سائنس کو اسے دریافت کرنے کے لئے اتنے پاپڑ کیوں بیلنے پڑے؟ مسلمانوں نے خود اسے پہلے ہی کیوں دریافت کر کے ثابت نہ کر دیا؟
حقیقت یہ ہے کہ قرآن بذات خود کسی سائنسی بات کو پیش نہیں کرتا بلکہ وہ تو اپنی بات سمجھانے کے لئے مختلف پیرائے استعمال کرتا ہے بلکہ ایک جگہ کسی انداز میں تو دوسری جگہ کسی انداز میں ایک ہی بات کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر ایک ایک آیت کے اپنے معانی و مفہوم پر بھی دسیوں قسم کا اختلاف صدیوں سے موجود ہے۔ یہ خود قرآن کے ساتھ کس قدر ناانصافی ہے کہ جہاں بہت سے معنی لینے کا احتمال موجود ہو اسے صرف ایک معانی پر متعین کر کے سائنس برآمد کر لی جائے۔ جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب اس کے خلاف کوئی چیز سائنس ثابت کرتی ہے تو پھر ہمیں اس بات کا مفہوم دوبارہ بدلنا پڑتا ہے۔ پچھلی چند صدیوں مین سائنس نے جس تیزی سے ترقی کی ہے وہاں یہ سلسلہ بھی تیز ہو گیا۔ چنانچہ جاننے والے جانتے ہیں کہ پرانے دور میں جب تک زمین کو ہموار مانا جاتا تھا تو ہمارے تمام قدیم مفسرین قرآن کی ہی آیات اور سلف صالحین سے یہ ثابت کرتے تھے کہ زمین ہموار اور بچھی ہوئی ہے۔ آپ کو اس دور میں کہیں کسی ایک مفسر یا عالم سے بھی یہ دعویٰ نہیں ملے گا کہ فلاں آیت یا حدیث سے زمین کا گول ہونا نکلتا ہے۔ مگر جب سائنس نے زمین کو گول ثابت کر دیا تو آپ کو ایسی کئی آیات سے یہ دعویٰ ثابت کرنے والے مل جائیں گے کہ قرآن تو زمین کو گول کہتا آیا ہے اور جن آیات سے زمین کا ہموار یا چپٹا ہونا نکلتا ہے ان کا تو یہ مفہوم ہی درست نہیں بلکہ جو قدیم سلف صالحین یہ مفہوم نکالتے رہے وہ سب بھی غلط تھے۔
اس سارے معاملے میں قصور ہمارے ان نابغوں کا ہے جو کہ قرآن سے سائنس برآمد کرتے رہتے ہیں ورنہ جیسا کہ عرض کی ہے قرآن کا یہ موضوع ہی نہیں ہے بلکہ ایک ہی بات کو قرآن مختلف انداز سے بیان کرتا ہے جس کا کوئی مطلب بھی سائنس کے کسی مسئلہ کو ثابت کرنا یا بیان کرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنے پیغام کا ابلاغ ہوتا ہے۔
اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے میں ایک مشہور مثال پیش کرنا چاہوں گا کہ جسے قرآن میں سائنس کی برآمدگی کے لئے استعمال کیا گیا۔
٭٭٭پہاڑوں کا میخوں کی طرح گڑا ہونا٭٭٭
انسان ہمیشہ سے پہاڑوں کو دیکھتا آیا ہے اور بظاہر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ پہاڑ جتنے زمین کے اوپر نظر آتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ نیچے بھی موجود ہیں اور جب سائنس نے ترقی کی تو یہ حقیقت معلوم ہوئی۔ بس سائنس کا یہ دریافت کرنا تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک سمیت ہمارے بڑے بڑے اسلامی نابغے جوش میں آئے اور قرآن سے نکال لیا کہ یہ بات تو قرآن نے 1400 سال پہلے ہی بتا دی تھی۔ چنانچہ ثبوت کے طور پر یہ آیت پیش کی گئی:
"کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا. اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا." (سورة النبإ: 7-6)
اس بات سے قطع نظر کے سائنسی تحقیق کی رُو سے پہاڑ اوپر سے گاڑے نہیں گئے بلکہ زمین کے اندرونی دباؤ کی وجہ سے نیچے سے اوپر کو اُبھرے ہیں۔ مگر حقیقی بات یہ ہے کہ قرآن کا یہ بیان کسی سائنسی حقیقت کا بیان نہیں بلکہ بیان کا ایک انداز ہے۔ چنانچہ قرآن میں پہاڑوں کے صرف گاڑے جانے کی بات نہیں بلکہ رکھے یا ڈالے جانے کا بیان بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر دیکھئے سورۃ الحجر (آیت 19)
٭ (مولانا احمد علی لاہوری) اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔
٭ (مولانا جالندھری) اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے۔
٭ (مولانا جونا گڑھی) اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور اس پر (اٹل) پہاڑ ڈال دیئے ہیں۔
٭ (مولانا مودودی) ہم نے زمین کو پھیلایا، اُس میں پہاڑ جمائے۔
٭ (مولانا محمود الحسن) اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور رکھ دیے اس پر بوجھ (پہاڑ)
یہ مضمون قرآن میں کئی اور جگہ بھی آیا ہے، جہاں پہاڑوں کے رکھے جانے کی بات کی گئی ہے۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ انداز بیان ہے کوئی سائنسی انکشاف نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی جگہ پہاڑوں کو رکھنے سے یا ڈالنے سے تو کسی جگہ گاڑنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اس کا ایک اور ثبوت یہ بھی ہے کہ زمانہ نبوی میں خود غیر مسلم بھی پہاڑوں کے لئے نصب کئے جانے یا گاڑے جانے کی بات کرتے تھے یا یہی نظریہ رکھتے تھے۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ ان کے ہاں پہاڑوں کے لئے بیان کا ایک طریقہ تھا۔
چنانچہ ایک عام عربی بدو نے مسلمان ہونے سے پہلے سوال کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: "یہ پہاڑ کس نے گاڑے ہیں؟"
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب السوال عن ارکان الاسلام، حدیث 103)
یہ حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پہاڑوں کے گاڑے جانے کی بات کوئی سائنسی حقیقت یا اس کا بیان نہیں تھا بلکہ یہ بات تو عرب میں بدو تک پہاڑوں کے بارے میں اسی طرح کہتے تھے۔
مگر اپنے اسلامی نابغوں کا کیا کریں جو قرآن سے سائنس نکالنے کے چکر میں الٹا اسلام کو ہی نئے نئے امتحان میں ڈال دیتے ہیں۔
سیدھی اور صاف بات تو یہ ہے کہ قرآن میں سائنسی حقائق بیان نہیں ہوئے بلکہ مختلف انداز سے باتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اب جہاں کوئی بات سائنس کے موجودہ علم سے میچ کرتی ہے تو ہم اسے اپنے مذہب کی حقانیت کی طور پر پیش کر دیتے ہیں اور جہاں کوئی چیز سائنس سے ٹکرا رہی ہوتی ہے تو اسے ادبی پیرایہ بنا کر بات گول مول کر دیتے ہیں۔
قرآن بذات خود کسی سائنسی بات کو پیش نہیں کرتا بلکہ وہ تو اپنی بات سمجھانے کے لئے مختلف پیرائے استعمال کرتا ہے۔ چنانچہ کسی جگہ کسی ایک انداز میں تو دوسری جگہ کسی دوسرے انداز میں ایک ہی بات کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر ایک ایک آیت کے اپنے معانی و مفہوم پر بھی دسیوں قسم کا اختلاف صدیوں سے موجود ہے۔ یہ خود قرآن کے ساتھ کس قدر ناانصافی ہے کہ جہاں بہت سے معنی لینے کا احتمال موجود ہو اسے صرف ایک معانی پر متعین کر کے سائنس برآمد کر لی جائے۔ جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب اس کے خلاف کوئی چیز سائنس ثابت کرتی ہے تو پھر ہمیں اس بات کا مفہوم دوبارہ بدلنا پڑتا ہے۔
قرآن کے بیان مختلف ادبی پیرائے ہی ہیں، بعینیہ ہی حقائق کا بیان نہیں، چاہے اس سے ہمارے عقیدہ و عقیدت کو کتنی ہی تکلیف کیوں نہ پہنچے۔ یہ سب ہمیں اس لئے کرنا پڑا کہ دوسروں کو متاثر کر سکیں اور اب صورتحال یہ ہو چکی کہ بات الٹا ہمارے گلے پڑ چکی ہے کہ قرآن کے بیانات کو عین حقیقت مان کر چلا جائے۔
یہ مسئلہ صرف سائنسی حقائق کا نہیں ہے بلکہ دوسرے عقائد و نظریات کے ساتھ بھی ہے۔ مثال کے طور پر قرآن نے حضرت عیسیٰ کو پالنے میں بولتے ہوئے صاحب کتاب باور کروایا ہے جبکہ تب ان کے پاس کتاب تھی ہی نہیں، ان کے منہ سے کہلوایا کہ نماز اور ذکواۃ فرض ہے جبکہ وہ بہت بعد میں ان کی جوانی پر ہی فرض ہوئی، شیر خوار بچے پر کیسے فرض ہو گئی اور کس نے ادائیگی کی؟
"تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں؟ بچہ بول اٹھا: مَیں اللہ کا بندہ ہوں اُس نے مجھے کتاب دی، اور نبی بنایا۔ اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں، اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں۔"
(سورۃ مریم: 29-31)
اب اس کا سوائے اس کے کوئی حل نہیں کہ ہم اسے بس ادبی پیرایہ مان کر یہ کہہ دیں کہ مستقبل کی بات کو حال میں بیان کر دیا گیا، اپنے ایمان بچا لیں ورنہ اسے بالکل حقیقی طور پر ماننا ممکن ہی نہیں۔ اگرچہ یہ مسئلہ پھر رہ جائے گا کہ جو آیات سائنسی حقائق کے تناظر میں پیش کی جاتی ہیں انہیں بھی بالکل کیسے ہر ہر لفظ میں صریح مانا جائے جبکہ وہاں اس لفظ کے بھی دیگر معانی موجود ہی ہوتے ہیں اور اگر ایک معانی بھی ہو تو کیا پتا خدا کے کہنے کا مطلب وہی تھا جو بظاہر بیان ہوا ہے یا خدا نے اسے صرف کسی ادبی پیرائے میں استعمال کیا ہے؟ اسی طرح پھر کسی بھی حکم کو یہ مان کر بھی چھوڑا جا سکتا ہے کہ یہ شاید مستقبل کی بات ہو یا ماضی کی ہو۔ مگر کم از کم من و عن بس مان لینے سے اور اسے کسی خاص معانی پر ہی محمول نہ کرنے سے ہمارا ایمان ضرور بچ جائے گا۔
قرآن کے کسی بیان کو بالکل دو ٹوک اور صریح معنی میں لینا اتنا آسان کہیں بھی نہیں ہے۔ اس کے لئے ایک مثال یہ دیکھیں۔ قرآن نے جگہ جگہ خدا کی جانب سے کائنات، زمین، آسمان اور دیگر اشیاء کی تخلیق اور بنانے کا تذکرہ کیا ہے۔
چنانچہ فرمایا: "جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا۔" (البقرۃ: 22)
نیز فرمایا: "سب تعریف الله ہی کے لیے ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور اندھیرا اوراجالا بنایا۔" (الأنعام: 1)
اور فرمایا: "وہ صبح کا نکالنے والا ہے اور اس نے آرام کے لیے رات بنائی۔" (الأنعام: 96)
ارشاد ہوا: "وہی ہے جس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو منور فرمایا۔" (یونس: 5)
اسی طرح فرمایا: "وہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑ بنایا۔" (الأعراف: 189)
ایسی بہت سی آیات کی بنا پر ہم سب کا عقیدہ ہے کہ زمین و آسمان، چاند ستارے، دن رات، اسی طرح انسانوں اور دیگر جانداروں کی تخلیق سب براہ راست خود خدا نے کیا، جس میں اس کا کوئی شریک نہیں۔
مگر قرآن صرف کائناتی تخلیقات اور جانداروں کے بنانے کو ہی خدا کی طرف نسبت نہیں دیتا بلکہ قرآن کے ہاں تو دریاؤں سمندروں میں چلنی والی کشتیاں بھی خدا نے بنائی تھیں۔
چنانچہ فرمایا: "جس نے تمام چیزوں کے جوڑے بنائے اور تمہارے لیے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جانور (پیدا کیے) جن پر تم سوار ہوتے ہو۔" (الزخرف: 12)
گویا قرآن کے مطابق جیسے خدا نے زمین آسمان بنائے، دن رات بنائے، انسان اور جانوروں کے جوڑے خود پیدا کئے، دریا اور سمندر بنائے، اسی طرح دریاؤں اور سمندروں میں چلنے والی کشتیاں بھی خدا نے ہی بنائیں ہیں۔
اب اپنے ایمان سے بتائیں کیا کشتیاں بھی خدا نے بنائی ہیں؟ یا یہ انسان کی تخلیق ہیں؟ اور انسان نے ہی انہیں بنا کر اپنی سواری کے قابل بنایا ہے۔ اگر کہا جائے کہ انسان نے جو بھی بنایا خدا نے انہیں اپنی طرف منسوب کر لیا کہ وہ بھی اسی کا بنانا ہے تو بتائیں پھر اس میں کشتیوں کی ہی کیا تخصیص؟ نیز پھر صراحت ہی کس بات کی باقی رہی کہ خدا نے جو براہ راست بنایا وہ کیا ہے؟ جبکہ دونوں کو خدا اپنا ہی بنانا کہتا ہے، چاہے خود اپنے بنانے کا دعویٰ ہو یا آگے کسی اور نے کچھ بنایا ہو۔ پھر کیا اس تناظر میں یہ کہنا بھی درست اور مناسب ہو گا کہ پاکستان اللہ میاں نے بنایا یا غالب کی شاعری بھی اللہ کی تخلیق ہے کہ قائد اعظم اور غالب کو بھی تو اللہ نے پیدا کیا تھا؟
سو اس کا حل سوائے اس کے کیا ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ قرآن کی آیات کو صرف نصیحت کے لئے، بات سمجھانے کے لئے یا بیان کے ایک انداز کے طور پر مختلف پیراؤں میں استعمال کیا گیا ہے اور قرآن مختلف یا ایک ہی طرح کے الفاظ کو کبھی بالواسطہ اور کبھی بلاواسطہ بیان کرتا ہے اور وہاں صراحت کے ساتھ کسی چیز کو ثابت کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ صرف تذکیر و نصیحت مراد ہوتی ہے۔
سو جب صورتحال اتنی عام باتوں کو لے کر بھی یہ ہے تو قرآن کی کسی بھی آیت کے کسی خاص لفظ کو لے کر اور اس میں بھی بیسیوں معانی کو چھوڑ کر کوئی ایک ہی معانی کسی نئی سائنسی تحقیق کے عین مطابق پیش کرنا کہ چودہ سو سال پہلے ہی خدا یہاں بس یہی سائنسی حقیقت دو ٹوک اور صراحت کے ساتھ ثابت کرنا چاہتا تھا، خود کو اور دوسروں کو دھوکہ دینے کے سوا کیا ہے؟
قرآن کو لے کر ہم کیسے ہر دور میں اپنے مفید مطلب معنی بدلتے آئے ہیں، اس کے لئے ایک مثال یہ دیکھیں۔ قرآن میں کسی چیز کے نازل ہونے کے بارے بہت سی آیات میں تذکرہ ہوا ہے۔ عربی لغت و نحو کے مشہور امام راغب اصفہانی "النزول" کے بارے لکھتے ہیں:
"اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں۔"
(مفردات القرآن: ج2 ص479، اسلامی اکادمی لاہور)
قرآن میں بہت سی جگہ یہ الفاظ اترنے اور اتارنے کے معنوں کو ثابت کرنے کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔ چنانچہ فرمایا:
"ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی۔" (النساء: 105)
"اور کہتے ہیں کہ ان پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا؟" (الأنعام: )
"اور ہم نے ایک اندازہ کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا۔" (المؤمنون: 18)
چنانچہ قرآن میں نازل ہونے کے لفظ اپنے لغوی معنوں کے مطابق استعمال ہوتے ہوئے کسی چیز کے اترنے یا اتارے جانے کے لئے بارہا استعمال ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ بنی اسرائیل کے لئے من و سلویٰ اتارے جانے کے لئے بھی "وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ" (البقرة: 57) کے الفاظ استعمال ہوئے جس سے یہ استدلال لیا جاتا ہے کہ من و سلویٰ بنی اسرائیل پر اوپر سے اترتا تھا۔
مگر قرآن میں لوہے کے بارے میں بھی نازل ہونے اور اتارے جانے کی بات کی گئی ہے۔ چنانچہ فرمایا:
وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ
" اور ہم نے لوہے کو نازل کیا جس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے لیے (بہت سے) فائدے ہیں۔" (الحديد: 25)
اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ لوہا آسمان سے نازل نہیں ہوتا بلکہ زمین سے نکلتا ہے اور بظاہر یہ بالکل خلاف واقعہ بات ہے۔ چنانچہ ہمارے مفسرین یہاں اتارے جانے کا مطلب پیدا کرنا اور اس کا استعمال سکھانے سے ہی کرتے آئے ہیں کیونکہ یہاں مجبوری تھی کہ ظاہر الفاظ کے مطابق صریح دو ٹوک معنی مراد لینے سے مسئلہ بنتا تھا۔ چنانچہ مولانا مودودی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
"”لوہا اتارنے کا مطلب زمین میں لوہا پیدا کرنا ہے۔۔۔۔" (تفہیم القرآن)
سعودی عرب سے شائع ہو کر تقسیم ہونے والے اردو ترجمہ کے حاشیہ پر لکھا ہے:
"یہاں بھی اتارا پیدا کرنے اور اس کی صنعت سکھانے کے معنی میں ہے۔"
(قرآن کریم مع اردو ترجمہ و تفسیر، ص1540)
سو ہمارے مفسرین کے مطابق یہاں بھی قرآن میں صریح بات بیان نہیں ہوئی تھی بلکہ پیدا کرنے یا اس کا استعمال سکھانے کو ہی نازل کرنا یا اتارنا کہہ دیا گیا حالانکہ پیدا کرنے کو مجازی طور پر اور اس کی صنعت سکھانے کو مجاز در مجاز بہت کھینچ کر ہی نازل ہونا سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ مگر اتنے میں کسی سائنس کے شمارے میں کچھ ایسا آ گیا کہ اسلامی مجاہدین برآمد ہوئے اور فرمایا:
"آج سائنس کی ترقی نے اس آیت کے مفہوم میں حیرت انگیز اضافہ فرما دیا ہے اور جب ہم اس کے لغوی معنوں ”طبعی طور پر آسمان سے اتارا" پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں ایک بے حد اہم سائنسی معجزے کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جدید فلکیاتی محققین نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری دنیا میں پایا جانے والا لوہا بیرونی خلا کے عظیم ستاروں سے آیا ہے۔"
جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی ویب سائیٹ پر اس حوالے سے انکشاف ہوا کہ "لوہا اس زمین کی پیداوار نہیں ہے یہ باہر سے لایا گیا ہے۔ سائنس اس بات کو اب ثابت کر رہی ہے کہ ہزاروں سال پہلے خلا سے ایک meteorites زمیں پر مارا گیا جس سے زمیں پر لوہا پھیل گیا۔ اللہ نے قرآن میں یہ بات اس طرح بتائی ہے کہ:
ہم نے لوہا لوگوں کے فائدے کے لئے اتارا جس میں بڑا ہی زور ہے۔ (القرآن 57:25)"
یہی مئوقف جابجا انٹرنیٹ پر اسلامی دعوت سے منسلک کئی انگریزی ویب سائٹس میں بھی پیش کیا گیا ہے تاکہ اس سائنسی انکشاف سے کافروں کو اسلام کی حقانیت پر قائل کیا جا سکے۔ گویا اب قرآن کے یہ لفظ بالکل اپنے مفہوم و معنی پر دوبارہ صریح اور واضح بن چکے تھے تاکہ ہم اپنے معروف "1400 سال پہلے ہی بتا دیا گیا تھا" کی نظریاتی لذت کشید کر کے بغلیں بجا سکیں اور دوسروں کو ثابت کر سکیں کہ "ہمیں تو پہلے ہی پتا تھا"۔
مگر اب یہاں اس حقیقت کا کیا کریں کہ قرآن کے مطابق صرف لوہا ہی نازل نہیں ہوا تھا بلکہ مویشیوں کی نر و مادہ آٹھ قسمیں اور انسانوں کے لئے لباس بھی خدا نے نازل کیا۔ چنانچہ فرمایا:
خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۚ
"اس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے، پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے نازل کیے۔" (الزمر: 6)
يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا
"اے اولاد آدم، ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے۔" (الأعراف: 26)
گویا قرآن کے مطابق تو مویشیوں کی آٹھ قسمیں اور لباس بھی نازل کیا گیا تھا۔ اب کیا واقعی انسانوں کے لئے لباس بھی کہیں باہر سے اترتا ہے اور مویشیوں کی آٹھ قسمیں بھی کہیں اوپر سے اتری تھیں؟
اب گول گھوم کر واپس صرف یہی رہ جاتا کہ ہم دوبارہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ یہاں پیدا کرنے کو مجازی طور پر یا ان چیزوں کے پیدا ہونے کے اسباب مہیا کرنے کو مجاز در مجاز نازل ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ اس پر یہ بحث پھر بھی رہ جائے گی کہ پھر اس میں لوہے، لباس اور مویشیوں کی صرف آٹھ قسموں کی ہی کیا تخصیص ہے؟
بہرحال ان تمام مثالوں کے پیشِ نظر یہ سمجھنا ہرگز مشکل نہیں کہ قرآن میں ایک ہی لفظ کو ظاہری، ادبی، مجازی یا مجاز در مجاز بہت مختلف انداز و پیرائے میں استعمال کیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کے الفاظ کو یہ سب پشت ڈال کر صرف اپنے مطلب کے لئے صراحت کے ساتھ کسی ایک ہی معانی یا دو ٹوک کسی سائنسی و کائناتی حقیقت پر استدلال کرنا علمی طور پر درست نہیں بلکہ یہ محض بعد والوں کی باطل نکتہ آفرینیاں ہیں جو ہر دور میں الگ الگ معنی نکال کر خدا سے منسوب کر دیتے ہیں۔
واللہ اعلم
(شعیب محمد)