تخطي للذهاب إلى المحتوى
افکارنو
  • مرکزی صفحہ
  • مضامین اور تحریریں
    • قرآن
    • حدیث و تاریخ
    • سیرت
    • صحابہ کرام
    • عقیدہ و احکام
    • نقد و نظر
    • مالیات
    • متفرقات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
افکارنو
      • مرکزی صفحہ
      • مضامین اور تحریریں
        • قرآن
        • حدیث و تاریخ
        • سیرت
        • صحابہ کرام
        • عقیدہ و احکام
        • نقد و نظر
        • مالیات
        • متفرقات
      • ہمارے بارے میں
    • رابطہ

    حضرت عائشہ پہ تہمت کا بیان

  • كافة المدونات
  • سیرت
  • حضرت عائشہ پہ تہمت کا بیان
  • 27 ديسمبر 2024 بواسطة
    شعیب محمد

    حضرت عائشہ پہ تہمت کا بیان

    بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ حضرت عائشہ پہ جو تہمت واقعہ افک میں لگی تھی، ان میں مشہور منافق عبداللہ بن ابی کے ساتھ دیگر لوگوں میں مشہور نعت خوان صحابی حضرت حسان اور ام المومنین حضرت زینب کی بہن حضرت حمنہ بھی شامل تھیں۔ حضرت عائشہ اسی وجہ سے ہمیشہ حضرت حمنہ اور حضرت حسان سے شاکی بھی رہیں۔

    حضرت عائشہ کا یہ بیان روایت ہوا ہے کہ "جن لوگوں نے یہ تہمت لگائی تھی وہ مسطح، حمنہ اور حسان تھے،رہا منافق عبد اللہ بن ابی تو وہ اس کو کرید کر نکالتا اور پھیلاتا تھا، اس کا اس میں بڑا حصہ ہے اور (اس کے بعد) حمنہ۔" (صحیح مسلم، رقم 2770 دارالسلام 7022)

    حتیٰ کہ واقعہ افک کے سلسلے میں جن دو مردوں اور ایک عورت کو حد جاری ہوئی ان میں مسطح، حضرت حسان اور حضرت حمنہ کا نام آیا ہے۔ دیکھئے سنن ابوداؤد (رقم 4474، 4475)

    حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں سب سے مشہور عبداللہ بن ابی پہ حد جاری نہیں کی گئی۔

    حضرت عائشہ کے شاگرد تابعی عروہ بیان کرتے ہیں: "مَیں نے حضرت حسان بن ثابت کو بُرا بھلا کہا کیونکہ وہ واقعہ افک میں حضرت عائشہ کے متعلق بہت کچھ کہا کرتے تھے۔"
    (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، حدیث 4145)

    اسی طرح حضرت عائشہ کے دوسرے شاگرد تابعی مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے حضرت حسان بن ثابت کو قرآن کی آیت کا مصداق ٹھہراتے ہوئے عذابِ عظیم کا مستحق قرار دیا۔ اس پر حضرت عائشہ نے تردید کرنے کی بجائے فرمایا: "اس سے سخت عذاب اور کیا ہو گا کہ وہ دنیا میں اندھا ہو گیا ہے۔" مگر اپنے ان شاگردوں کے سامنے وہ حضرت حسان بن ثابت کی یہ تعریف بھی ضرور کرتی تھیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع اور حمایت کرتے تھے۔
    (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، حدیث 4146)

    حضرت عائشہ نے واقعہ افک کی وجہ سے ام المومنین حضرت زینب کی بہن حضرت حمنہ کے لئے بھی کہا: "حمنہ نے غلط راستہ اختیار کیا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوئیں۔"
    (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، حدیث 4141)

    في سیرت
    # امہات المومنین تاریخ صحابہ کرام
    سیرت النبی کا اہم مگر خاموش دور

    یہ ویب سائٹ علمی جستجو، مطالعہ اور فکری مباحث کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ یہاں آپ کو مذہب، تاریخ، عقیدہ و مسائل اور معاشی و مالی معاملات سے متعلق مضامین پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ قاری اپنے علم میں اضافہ کرے اور مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کر سکے۔ ہماری کوشش ہے کہ مواد سادہ، قابلِ فہم اور تحقیق پر مبنی ہو، تاکہ یہ ہر سطح کے قارئین کے لیے مفید ثابت ہو۔

    رابطہ کیجئے

    اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریریں  لکھنے والوں کی ذاتی آراء اور مطالعہ پر مبنی ہیں۔ کسی بھی ادارے، تنظیم یا جماعت کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ قاری اپنی سمجھ بوجھ اور تحقیق کے مطابق مواد سے استفادہ کرے۔

    • afkarenau@protonmail.com 
    Copyright © Company name
    مشغل بواسطة أودو - إنشاء موقع إلكتروني مجاني