حضرت عائشہ پہ تہمت کا بیان
بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ حضرت عائشہ پہ جو تہمت واقعہ افک میں لگی تھی، ان میں مشہور منافق عبداللہ بن ابی کے ساتھ دیگر لوگوں میں مشہور نعت خوان صحابی حضرت حسان اور ام المومنین حضرت زینب کی بہن حضرت حمنہ بھی شامل تھیں۔ حضرت عائشہ اسی وجہ سے ہمیشہ حضرت حمنہ اور حضرت حسان سے شاکی بھی رہیں۔
حضرت عائشہ کا یہ بیان روایت ہوا ہے کہ "جن لوگوں نے یہ تہمت لگائی تھی وہ مسطح، حمنہ اور حسان تھے،رہا منافق عبد اللہ بن ابی تو وہ اس کو کرید کر نکالتا اور پھیلاتا تھا، اس کا اس میں بڑا حصہ ہے اور (اس کے بعد) حمنہ۔" (صحیح مسلم، رقم 2770 دارالسلام 7022)
حتیٰ کہ واقعہ افک کے سلسلے میں جن دو مردوں اور ایک عورت کو حد جاری ہوئی ان میں مسطح، حضرت حسان اور حضرت حمنہ کا نام آیا ہے۔ دیکھئے سنن ابوداؤد (رقم 4474، 4475)
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں سب سے مشہور عبداللہ بن ابی پہ حد جاری نہیں کی گئی۔
حضرت عائشہ کے شاگرد تابعی عروہ بیان کرتے ہیں: "مَیں نے حضرت حسان بن ثابت کو بُرا بھلا کہا کیونکہ وہ واقعہ افک میں حضرت عائشہ کے متعلق بہت کچھ کہا کرتے تھے۔"
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، حدیث 4145)
اسی طرح حضرت عائشہ کے دوسرے شاگرد تابعی مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے حضرت حسان بن ثابت کو قرآن کی آیت کا مصداق ٹھہراتے ہوئے عذابِ عظیم کا مستحق قرار دیا۔ اس پر حضرت عائشہ نے تردید کرنے کی بجائے فرمایا: "اس سے سخت عذاب اور کیا ہو گا کہ وہ دنیا میں اندھا ہو گیا ہے۔" مگر اپنے ان شاگردوں کے سامنے وہ حضرت حسان بن ثابت کی یہ تعریف بھی ضرور کرتی تھیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع اور حمایت کرتے تھے۔
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، حدیث 4146)
حضرت عائشہ نے واقعہ افک کی وجہ سے ام المومنین حضرت زینب کی بہن حضرت حمنہ کے لئے بھی کہا: "حمنہ نے غلط راستہ اختیار کیا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوئیں۔"
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، حدیث 4141)