حضرت خدیجہ سے نبی ﷺ کی شادی
یہ بات معروف ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت خدیجہ کا تجارتی مال لے کر شام کے سفر پہ گئے تھے۔ سفر کے دوران گزرے واقعات جب حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ نے بیان کئے تو حضرت خدیجہ ان سے شدید متاثر ہوئیں۔
1) حضرت جابر سے مروی ہے کہ حضرت خدیجہ نے آپ ﷺ سے کہا:
"آپ میرے والد سے ملیں اور مجھ سے نکاح کی اُن سے بات کریں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "آپ کے والد بہت مالدار ہیں، وہ اس بات پہ کبھی راضی نہ ہوں گے۔" وہ کہنے لگیں: "آپ ان سے ملیں اور (ہمارے نکاح کی) بات کریں، پھر مَیں آپ کی طرف سے کافی ہوں لیکن آپ اُن کے پاس اُس وقت جائیں جب وہ نشے کی حالت میں ہوں۔"
پس آپ (ﷺ ) نے یہی کیا، (چنانچہ) انہوں نے آپ سے شادی کر دی۔ پس جب وہ صبح کی مجلس میں بیٹھے تو کسی نے کہا: تم نے بڑا اچھا کام کیا کہ محمد سے اپنی بیٹی کی شادی کر دی۔ اُنہوں نے کہا: کیا مَیں نے یہ (کوئی) اچھا کام کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ وہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہوئے اور حضرت خدیجہ کے پاس آ کر کہا: لوگ کہہ رہے ہیں کہ مَیں نے اپنی بیٹی کا نکاح محمد سے کر دیا ہے حالانکہ مَیں نے تو ایسا نہیں کیا۔ حضرت خدیجہ نے فرمایا: اپنی رائے کو ان پہ مسلط نہ کریں کیونکہ محمد( ﷺ ) ایسے ایسے اخلاق والے ہیں۔ وہ مسلسل یہ بات کرتی رہیں، یہاں تک کہ وہ راضی ہو گئے۔
پھر حضرت خدیجہ نے محمد(ﷺ )کی طرف دو کنگن سونے یا چاندی کے بھیجے اور عرض کی کہ ایک بہترین لباس خرید کے مجھے تحفہ دیں، (اسی طرح) ایک مینڈھا اور فلاں فلاں چیز۔ پس آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا۔"
(المعجم الكبير للطبراني، ج2 ص210 رقم 1858 / مجمع الزوائد للهيثمي، ج9 ص222، رقم 15266 / مختصر زوائد لابن حجر العسقلاني، ج2 ص352، رقم 2000 / جامع الأحاديث للسیوطی، ج33 ص499، رقم 36683)
محدث امام ہیثمی اس روایت کے بارے فرماتے ہیں: "ورجال الطبراني رجال الصحيح غير أبي خالد الوالبي ، وهو ثقة" یعنی اس روایت کے تمام راوی صحیح اور ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد للهيثمي، ج9 ص222، رقم 15266)
معروف دیوبندی عالم مولانا یوسف کاندھلوی نے بھی یہ روایت اور اس پہ علامہ ہیثمی کا رواۃ کو صحیح اور ثقہ کہنا پیش کر رکھا ہے۔
(حياة الصحابة، ج3 ص464، طبع مؤسسة الرسالة، بيروت)
عرب محقق اور سیرت نگار دکتور مہدی رزق اللہ نے بھی اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
(سیرت النبی، ج1 ص208، اردو مطبوعہ دارالسلام پبلشرز لاہور)
سعودی عالم و محقق محمد إلياس الفالوذة لکھتے ہیں: "وهو حديث حسن صحيح. قال الحافظ ابن حجر ورجالها رجال الصحيح۔۔۔"
(الموسوعة في صحيح السيرة النبوية، ص138، طبع مطابع الصفا، مكة)
2) حضرت ابن عباس سے مروی ہے:
"ایک مرتبہ نبی ﷺ نے حضرت خدیجہ کا تذکرہ فرمایا۔ دراصل حضرت خدیجہ کے والد ان کی شادی کرنا چاہتے تھے۔ حضرت خدیجہ نے ایک دن دعوت کا اہتمام کیا اور (اس وقت کے رواج کے مطابق) شراب کا بھی انتظام کیا۔ انہوں نے اس دعوت میں اپنے والد اور قریش کے چند لوگوں کو بلا رکھا تھا۔ ان لوگوں نے کھایا پیا اور شراب کے نشے میں دھت ہو گئے۔
یہ دیکھ کے حضرت خدیجہ نے اپنے والد سے کہا: محمد بن عبداللہ میرے پاس نکاح کا پیغام بھیج رہے ہیں، اس لئے آپ ان سے میرا نکاح کرا دیجئے۔ انہوں نے نکاح کرا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے والد کو حلوق نامی خوشبو لگائی اور ایک حلہ (لباس) پہنا دیا جو اس وقت کے رواج کے مطابق تھا۔
جب حضرت خدیجہ کے والد کا نشہ اترا تو انہوں نے (یہ سب) دیکھا۔۔۔۔ تو کہنے لگے: یہ سب کیا ہے؟ حضرت خدیجہ نے فرمایا: آپ نے خود ہی تو میرا نکاح محمد بن عبداللہ سے کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا: مَیں تمھارا نکاح ابوطالب کے یتیم بھتیجے سے کروں گا؟ مجھے اپنی زندگی کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا۔
حضرت خدیجہ نے فرمایا: قریش کی نظروں میں اپنے آپ کو بیوقوف بناتے ہوئے اور لوگوں کو یہ بتاتے ہوئے کہ آپ نشے میں تھے، آپ کو شرم نہ آئے گی؟ اور وہ یہ بات مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں، یہاں تک کہ وہ راضی ہو گئے۔
(مسند احمد، ج5 ص46 رقم 2849 / مجمع الزوائد للهيثمي، ج9 ص220، رقم 15264 / الأحاديث المختارة للمقدسي، ج12 ص357 / تاریخ الاسلام للذہبی، ج1 ص65)
یہ روایت محدث امام ضیاء مقدسی کے نزدیک بالکل صحیح ہے کیونکہ انہوں نے اپنی کتاب میں اپنے نزدیک صرف صحیح روایات کا اہتمام کیا ہے۔
امام ہیثمی اس روایت کے بارے فرماتے ہیں: "رواه أحمد، والطبراني، ورجال أحمد والطبراني رجال الصحيح" یعنی اس روایت کے تمام راوی صحیح ہیں۔ (مجمع الزوائد للهيثمي، ج9 ص220، رقم 15264)
مشہور سیرت نگار علامہ شامی فرماتے ہیں: "روى الإمام أحمد برجال الصحيح عن ابن عباس۔۔۔" یعنی راوی صحیح ہیں۔
(سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد، ج11 ص155)
سعودی عالم و سیرت نگار محمد بن حمد الصوياني لکھتے ہیں: "اسے امام احمد نے قوی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔"
(السيرة النبوية كما جاءت في الأحاديث الصحيحة، ج1 ص46)
دیوبندی عالم مولانا یوسف کاندھلوی نے یہ روایت پیش کرتے ہوئے لکھا: "ورجالهما رجال الصحيح، كما قال الهيثمي"
(حياة الصحابة، ج3 ص465، طبع مؤسسة الرسالة، بيروت)