تخطي للذهاب إلى المحتوى
افکارنو
  • مرکزی صفحہ
  • مضامین اور تحریریں
    • قرآن
    • حدیث و تاریخ
    • سیرت
    • صحابہ کرام
    • عقیدہ و احکام
    • نقد و نظر
    • مالیات
    • متفرقات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
افکارنو
      • مرکزی صفحہ
      • مضامین اور تحریریں
        • قرآن
        • حدیث و تاریخ
        • سیرت
        • صحابہ کرام
        • عقیدہ و احکام
        • نقد و نظر
        • مالیات
        • متفرقات
      • ہمارے بارے میں
    • رابطہ

    حضرت ماریہ قبطیہ کا تذکرہ

  • كافة المدونات
  • سیرت
  • حضرت ماریہ قبطیہ کا تذکرہ
  • 2 فبراير 2022 بواسطة
    شعیب محمد

    حضرت ماریہ قبطیہ کا تذکرہ

    مشرکین مکہ سے صلح حدیبیہ کے مشہور معاہدے کے بعد 6 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف بادشاہوں کے نام خطوط لکھ کر انہیں اسلام کی دعوت دی
    (الرحیق المختوم، ص410، المجلس العلمی، اعظم گڑھ بھارت)

    انہی میں سے ایک خط مصر اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس کو بھی لکھا گیا۔ اس نے اسلام تو قبول نہ کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو کنیزیں ماریہ، اس کی بہن سیرین، ایک غلام مابور اور کچھ دیگر تحائف بھجوائے۔ ماریہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے پسند کر لیا اور اس کی بہن سیرین کو اپنے صحابی حسان بن ثابت کو تحفے میں دے دیا۔
    (سیرت نبوی علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام از دکتور مہدی رزق اللہ، جلد دوم ص120، مطبوعہ دارالسلام پبلشرز ریاض)

    حضرت ماریہ قبطیہ کو اُم ابراہیم بھی کہا گیا کیونکہ ان کے بطن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم پیدا ہوا۔ 
    (تاریخ ابن کثیر مترجم، ج4 ص220، مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی)

    مشہور اسلامی مئورخ و امام ابن کثیر نے لکھا ہے: "مئورخین بیان کرتے ہیں کہ حضرت ماریہ سفید رنگ اور خوبصورت تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند آ گئیں اور آپ نے ان سے محبت کی اور انہیں آپ کے پاس بڑی سربلندی حاصل ہو گئی خصوصاً حضرت ابراہیم کی پیدائش کے بعد۔" (تاریخ ابن کثیر مترجم، ج5 ص408)

    حضرت عائشہ فرماتی ہیں: "ماریہ کے علاوہ کسی عورت کو مجھ سے زیادہ مقام نہیں ملا۔ یہ اس لئے کہ وہ بہت حسین و جمیل تھیں، اس لئے رسول اللہ کو پسند تھیں۔ پہلے پہل تو حضرت حارثہ بن نعمان کے گھر انہیں ٹھہرایا، وہ ہمارے پڑوس میں تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن اور رات کے اکثر اوقات میں ان کے پاس رہتے۔ یہاں تک کہ ہمیں خدشہ ہونے لگا اور مَیں جزع و فزع کرنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینے کے بالائی حصے میں منتقل کر دیا، وہیں پھر اپ کا آنا جانا ہوتا، یہ بھی ہمیں گراں گزرتا۔"
    (الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، ج8 ص364، مترجم مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور)

    جب ابراہیم پیدا ہوئے تو ان کی دایہ سلمیٰ نے اپنے خاوند کو اطلاع دی کہ حضرت ماریہ نے ایک بیٹے کو جنم دیا ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یہ خوشخبری دی تو آپ نے اسے ایک ہار دیا۔ جب بچہ ملا تو رسول اللہ کی بیویوں نے غیرت کھائی اور انہیں یہ بات گراں گزری۔
    (تاریخ ابن کثیر مترجم، ج5 ص409)

    مقوقس نے اپنے تحائف میں غلام مابور (کچھ نے اس کا نام مایور لکھا ہے) بھی بھیجا تھا جو حضرت ماریہ کا عمزاد (کزن) بتایا جاتا ہے، وہ حضرت ماریہ کے ہاں آیا جایا کرتا تھا۔ جس کی وجہ سے لوگوں نے اس غلام اور حضرت ماریہ سے متعلق الزامات لگانے شروع کر دیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو بھیجا کہ تلوار لے کر جاؤ اور ماریہ کے پاس اس غلام کو پاؤ تو اسے قتل کر دو۔ دیکھئے تاریخ ابن کثیر مترجم (ج5 ص409)

    صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ "ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُم ولد (آپ کے فرزند کی والدہ) کے ساتھ متہم کیا جاتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے کہا: "جاؤ اور اس کی گردن اڑا دو۔" حضرت علی اس کے پاس گئے تو وہ ایک اتھلے (کم گہرے) کنوئیں میں ٹھنڈک کے لئے غسل کر رہا تھا۔ حضرت علی نے اس سے کہا: نکلو اور (سہارا دینے کے لئے) اسے اپنا ہاتھ پکڑایا اور اسے باہر نکالا تو دیکھا کہ وہ تو ہیجڑا ہے، اس کا عضو مخصوص تھا ہی نہیں۔ اس پر حضرت علی (اسے قتل کرنے سے) رُک گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو ہیجڑا ہے، اس کا عضو مخصوص ہے ہی نہیں۔"
    (صحیح مسلم، کتاب التوبۃ، باب براءۃ حرم النبی من الریبۃ، رقم 2771، دارالسلام 7023)

    تاریخ ابن کثیر کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس پہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس خدا کا شکر ہے جس نے ہم اہل بیت سے مصیبت کو دور کیا۔" (تاریخ ابن کثیر مترجم، ج5 ص409)

    امام نووی نے اس حدیث پہ "حرم نبوی کی ہر شک سے براءت" کے عنوان سے باب قائم کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ حضرت عائشہ پہ الزام لگنے سے کہیں بعد کا ہے، جب قرآن میں یہ ہدایات نازل ہو چکی تھیں:
    "جب تم نے یہ بات سنی تھی تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنے لوگوں کے ساتھ نیک گمان کیوں نہ کیا اور کیو ں نہ کہا کہ یہ صریح بہتان ہے۔ یہ لوگ اس پرچار گواہ کیو ں نہ لائے پھر جب وہ گواہ نہ لائے تو الله کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اور اگر تم پر الله کا فضل اور دنیا اور آخرت میں اس کی رحمت نہ ہوتی تو اس چرچا کرنے میں تم پر کوئی بڑی آفت پڑتی۔ جب تم اسے اپنی زبانوں سے نکالنے لگے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہنی شروع کر دی جس کا تمہیں علم بھی نہ تھا اور تم نے اسے ہلکی بات سمجھ لیا تھا حالانکہ وہ الله کے نزدیک بڑی بات ہے۔ اور جب تم نے اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں تو اس کا منہ سے نکالنا بھی لائق نہیں سبحان الله یہ بڑا بہتان ہے۔ الله تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا اگر تم ایمان دار ہو" (سورۃ نور: 12-17)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر حضرت ماریہ کو خرچ بھیجتے تھے، یہاں تک کے ان کی وفات ہو گئی۔ پھر حضرت عمر انہیں خرچ بھیجتے تھے حتیٰ کہ انہی کے دورِ خلافت میں محرم 15 ہجری کے دوران حضرت ماریہ فوت ہوئیں اور حضرت عمر نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ رضی اللہ عنہا
    دیکھئے الاصابۃ فی تمییز الصحابہ (ج8 ص364، مترجم مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور)


    في سیرت
    # امہات المومنین تاریخ اسلام سیرت النبی
    مولد النبی ﷺ

    یہ ویب سائٹ علمی جستجو، مطالعہ اور فکری مباحث کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ یہاں آپ کو مذہب، تاریخ، عقیدہ و مسائل اور معاشی و مالی معاملات سے متعلق مضامین پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ قاری اپنے علم میں اضافہ کرے اور مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کر سکے۔ ہماری کوشش ہے کہ مواد سادہ، قابلِ فہم اور تحقیق پر مبنی ہو، تاکہ یہ ہر سطح کے قارئین کے لیے مفید ثابت ہو۔

    رابطہ کیجئے

    اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریریں  لکھنے والوں کی ذاتی آراء اور مطالعہ پر مبنی ہیں۔ کسی بھی ادارے، تنظیم یا جماعت کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ قاری اپنی سمجھ بوجھ اور تحقیق کے مطابق مواد سے استفادہ کرے۔

    • afkarenau@protonmail.com 
    Copyright © Company name
    مشغل بواسطة أودو - إنشاء موقع إلكتروني مجاني