رضاعتِ نبوی کے واقعات
سیدہ حلیمہ کا بیان ہے کہ دیگر عورتوں کے ساتھ چاندنی رات میں گدھی پہ سوار ہو کے مکہ کی طرف دودھ پینے والوں بچوں کی تلاش میں چل پڑی۔ بڑا خشک سال تھا، ہم لوگوں کے پاس کچھ بھی باقی نہیں تھا۔ ہمارے ساتھ ایک دودھ والی اونٹی تھی، مگر وہ قطرہ برابر دودھ نہ دیتی اور میرا بچہ رونے سے خاموش نہ ہوتا تھا۔
میری چھاتی اور اونٹنی سے بچے کے لئے اتنا دودھ بھی حاصل نہ ہوتا جو بچے کے لئے کفایت کرتا۔
جب ہم مکہ میں آئے تو رسول ﷺکو ان تمام عورتوں پر پیش کیا گیا اور ہر عورت لینے سے انکار کرتی رہی۔ ہم لوگ تو بچے کے والد سے مال کے طلبگار ہوتے تھے اور آپ (ﷺ) یتیم تھے اور ہم کہتے تھے کہ اس کی والدہ کیا دے سکتی ہے؟
میرے ساتھ کی تمام عورتیں بچہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں اور صرف مَیں باقی رہ گئی اور مَیں نے یہ بات ناپسند کی کہ مَیں کچھ لے کر نہ جاؤں اور خالی ہاتھ چلی جاؤں۔ مَیں نے اپنے خاوند سے کہا: بخدا! مَیں تو وہی یتیم بچہ لاؤں گی۔ پس مَیں جا کر آپ (ﷺ) کو اپنے ٹھکانے پہ لے آئی کہ قریب ہے کہ اللہ اس سے بہتری کر دے۔
قسم اللہ کی! جوں ہی مَیں نے اس کو اپنی گود میں لیا تو میرے پستان دودھ سے بھر آئے جس قدر اللہ نے چاہا۔ پس آپ (ﷺ) نے بھی سیر ہو کے پیا اور آپ (ﷺ) کے (رضاعی) بھائی (یعنی سیدہ حلیمہ کے بیٹے) نے بھی سیر ہو کے دودھ پیا۔ رات کو میرا خاوند اونٹنی کی طرف اٹھا تو وہ دودھ سے بھری تھی۔ پس جتنا ہم نے چاہا ہم نے بھی دودھ پیا اور ہم بھی سیر ہو گئے۔ یہ رات ہم نے سیر ہو کر کھا پی کر بسر کی، ہمارے بچے بھی سوئے رہے۔
میرا خاوند کہتا تھا:بخدا! اے حلیمہ تُو معصوم مبارک بچہ لانے میں کامیاب رہی ہے اور تُو نے درست کیا۔ پھر ہم واپس لوٹے تو بخدا! میری گدھی سارے قافلے سے آگے جانے لگی اور سب کو ہی پیچھے چھوڑ گئی۔ لوگوں نے کہا: اے حلیمہ بن حارث! ہمیں بچا کر چل، کیا یہ وہی نہیں جس پہ تُو آئی تھی؟ تو مَیں کہہ دیتی کہ وہی تو ہے۔ یہاں تک کہ ہم سب سے پہلے منزل مقصود اور خشک زمین پہ پہنچ گئے۔ اس کے بعد میری بکریاں پیٹ بھر کے اور دودھ سے لبریز ہو کے آتیں اور لوگوں کی بکریاں بھوک سے مریل دودھ سے خالی آتیں۔ ہم جتنا چاہتے دودھ پیتے، دوسرے لوگ قطرہ تک حاصل نہ کر پاتے تو لوگ اپنے چرواہے سے کہتے: تم پہ افسوس ہے، تم بھی وہیں چرا کے لایا کرو جہاں حلیمہ کی بکریاں چر کے آتیں ہیں۔۔۔۔۔
نبی اکرم ﷺ ایک دن میں مہینہ کے برابر اور مہینہ میں سال کے برابر بڑھتے جاتے تھے حتیٰ کہ وہ ہوشیار بچہ نظر آنے لگے اور ہم انہیں لے کر واپس ان کی والدہ کے پاس چلے گئے۔ ان کے رضاعی والد اور میرے خاوند نے ان کی والدہ سے کہا: یہ بیٹا ہمیں ہی واپس لے جانے دو کیونکہ مکہ کی وبا کا ہمیں خطرہ ہے، (حالانکہ بات یہ تھی کہ) ہم نے ان کی برکت دیکھ کر ان کی شانِ رفعت محسوس کر لی تھی۔ ہم ان کی والدہ سے کہتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے کہہ دیا کہ تم دونوں اس کو واپس لے جاؤ تو ہم واپس لے گئے۔
ہمارے پاس (مزید) دو ماہ ٹھہرے تھے کہ وہ اپنے (رضاعی) بھائی کے ساتھ کھیلتے اور بکریاں چراتے تھے اور اپ کا بھائی دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا: قریشی بھائی کو پہنچو۔ اس کے پاس دو مرد آئے اور اس کو زمین پہ ڈال کے اس کا پیٹ چاک کر دیا تو ہم دوڑ کے آپ کے پاس پہنچے، ان کا رنگ متغیر تھا۔ ان کے باپ نے گلے لگایا، مَیں نے بھی گلے لگایا۔ پھر ہم نے کہا: اے بیٹے! تجھے کیا ہوا؟
انہوں نے کہا: سفید لباس والے دو آدمی آئے، انہوں نے مجھے زمین پہ لیٹا کر میرا پیٹ چاک کر دیا۔ اللہ کی قسم اس کے بعد مجھے کچھ علم نہیں کہ انہوں نے کیا کیا؟ ہم نے آپ (ﷺ) کو اٹھایا اور گھر لے آئے۔ ان کے رضاعی والد نے کہا: اے حلیمہ! میری رائے ہے کہ اس لڑکے کو کچھ ہو چکا ہے، اس کو واپس اس کے گھر پہنچا دیں، اس سے پہلے کہ کوئی خوفناک صورت ظاہر ہو۔
چنانچہ ہم ان کو ان کی والدہ کے پاس لے گئے۔ انہوں نے کہا: تم نے اس کو کیوں واپس کیا جبکہ تمھیں اسے لے جانے کی حرص تھی؟ مَیں نے کہا: مَین نے اس کی پرورش کا وہ حق ادا کر دیا جو ہم پہ لازم تھا۔ پھر مجھے خوف آیا کہ کوئی نئی صورتحال ہو گی تو یہ اپنی والدہ کے پاس ہی رہے۔ آپ کی والدہ نے کہا: بات یہ نہیں ہے، تم دونوں صحیح بات بتاؤ کہ تمھیں کیا خطرہ نظر آیا ہے اور اس کے ساتھ کیا پیش آیا ہے۔ وہ ایسا کہتی رہیں بالآخر ہم نے ساری بات بتا دی۔
انہوں نے کہا: کیا تمھیں اس کے بارے خوف پیدا ہوا؟ ہرگز نہیں، بخدا! میرے بیٹے کی عجیب شان ہے، کیا تمھیں بتا دوں؟ جب مَیں حاملہ تھی تو ایسا خفیف اور عظیم برکت والا حمل کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس کی پیدائش کے وقت مَیں نے دیکھا کہ میرے اندر سے چمکتے ستارے کی طرح نور نکلا۔ اتنی روشنی پھیلی کہ بصریٰ شہر کے اونٹوں کی گردنیں مجھے نظر آئیں۔
جب یہ پیدا ہوئے تو اس طرح نیچے نہیں گرے جیسے بچے گرتے ہیں۔ یہ اس طرح گرے کہ دونوں ہاتھ زمین پہ رکھےاور سر آسمان کی طرف تھا۔
اچھا اب تم دونوں اسے چھوڑ جاؤ اور اپنے کام کاج پہ پلٹ جاؤ۔
(مسند أبي يعلى، ج9 ص546، دوسرا نسخہ ج13 ص93، رقم 7163 / المعجم الكبير للطبراني، ج24 ص212 / صحیح ابن حبان، ج4 ص37، رقم 3011 / مجمع الزوائد، ج8 ص220، رقم 13840 وقال الهيثمي ورجالهما ثقات / تاريخ الإسلام للذهبي، ج1 ص46 وقال هذا حديث جيد الإسناد)