تخطي للذهاب إلى المحتوى
افکارنو
  • مرکزی صفحہ
  • مضامین اور تحریریں
    • قرآن
    • حدیث و تاریخ
    • سیرت
    • صحابہ کرام
    • عقیدہ و احکام
    • نقد و نظر
    • مالیات
    • متفرقات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
افکارنو
      • مرکزی صفحہ
      • مضامین اور تحریریں
        • قرآن
        • حدیث و تاریخ
        • سیرت
        • صحابہ کرام
        • عقیدہ و احکام
        • نقد و نظر
        • مالیات
        • متفرقات
      • ہمارے بارے میں
    • رابطہ

    کتاب، اہلِ کتاب اور اسلام

  • كافة المدونات
  • حدیث و تاریخ
  • کتاب، اہلِ کتاب اور اسلام
  • 22 يوليو 2022 بواسطة
    شعیب محمد

    کتاب، اہلِ کتاب اور اسلام 

    (پہلا حصہ)

    قریش مکہ باوجود اپنے شرک کے خود کو حضرت ابراہیم کا پیروکار کہتے تھے لیکن سلسلہ ابراہیمی کے دوسرے انبیاء بشمول حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے ادیان کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺنے جب دعویٰ نبوت کیا تو خود کو اہل کتاب کے اسی سلسلہ نبوت سے جوڑا جو حضرت ابراہیم کی آل میں کئی انبیاء بشمول حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ سے گزرتا ہوا آپ تک پہنچا۔

    چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہ پہلی وحی اترنے کے بعد جب خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم شدید خوفزدہ تھے، حضرت خدیجہ انہیں اپنے چچازاد ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں تھیں جو عیسائی ہو چکے تھے اور پرانی نازل ہونے والی آسمانی کتب انجیل وغیرہ کے عالم تھے۔ انہوں نے اس واقعہ پہ مئوقف دیا تھا کہ "یہ تو وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ پہ نازل ہوا تھا۔" (صحیح بخاری، رقم 6982)

    یہی وجہ تھی کہ قرآن میں بھی اہل کتاب کو دعوت دیتے ہوئے ارشاد ہوا:
    "اے اہلِ کتاب! پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو (ایک عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانے والے آ گئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔" (سورة المائدة: 19)

    رسول اللہﷺ قریباً بارہ سال مکہ میں دعوت کا  فرض سرانجام دیتے رہے لیکن قریش مکہ میں بہت کم لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ ﷺ کو بہت امید تھی کہ ورقہ بن نوفل کی طرح اہل کتاب یہود و نصاریٰ ضرور انہیں پہچانیں گے اور ان کی دعوت پہ لبیک کہیں گے۔

    چنانچہ قرآن میں ہے کہ "اور یہ کہتے ہیں کہ تم (خدا کے) رسول نہیں ہو۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہیں۔" (سورة الرعد: 43)

    اس خواہش کا تذکرہ ہمیں ان الفاظ سے بھی ملتا ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: "اگر دس یہودی مجھ پہ ایمان لے آتے تو سب یہودی مسلمان ہو جاتے۔" (صحیح بخاری، رقم 3941)

    اسی طرح دعوت اسلام کے بالکل ابتدائی دور میں بھی جب مشرکین مکہ کے لئے سورۃ لہب اور سورۃ قلم جیسی سورتیں اور آیات نازل ہو رہی تھیں۔ جن میں مخالفین کو بے وقار، کمینہ، چغل خور, بدنسل و حرامزادہ (القلم: 10-13) تک قرار دیا اور ان کے لئے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سخت وعیدیں سنائیں (القلم: 16، الہب: 1-5)، وہیں مکی دور میں اہل کتاب کے متعلق ہدایات کچھ یوں آتی تھیں:

    "اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے کہ نہایت اچھا ہو۔ ہاں جو اُن میں سے بے انصافی کریں اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اُتری اور جو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں۔" 
    (سورة العنكبوت مکیہ: 46)

    وحی کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد موجود ہے کہ "کچھ ہی عرصہ بعد ورقہ بن نوفل کا انتقال ہو گیا اور وحی آنا بھی منقطع ہو گئی۔" 
    (صحیح بخاری، رقم 6982)

    مگر اس دور میں یا مکہ میں گزری زندگی میں اہل کتاب کی طرف رجحان ایسا تھا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ "نبی ﷺ کے پاس جس معاملے کے متعلق اللہ کا حکم نہیں آتا تھا تو آپ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی موافقت پسند کرتے تھے۔" 
    (صحیح بخاری، رقم 3944)

    مدینہ میں ہجرت کے بعد جب براہ راست اہل کتاب بالخصوص یہود سے واسطہ پڑا تو توقعات کے برعکس دعوت اسلام کو انہوں نے ہرگز قبول نہ کیا بلکہ مسلمانوں کو نت نئے سوالات اور اعتراضات سے بھی پریشان کئے رکھا۔ یہودیوں کی اس مخالفت کا رسول اللہﷺ کو شدید رنج تھا۔

    معروف معاملہ ہے کہ مخلتف وجوہات و دشمنی میں یہودی قبائل نے جلاوطنی قبول کی، اپنے گھربار چھوڑ دئیے حتیٰ کہ ایک پورا قبیلہ مسلمانوں کے ہاتھوں مفتوح ہو کر قتل ہوا۔ وہ کٹ مرے لیکن سوائے چند یہودیوں کے کسی نے دعوت اسلام قبول نہ کی۔

    اہلِ کتاب کے لئے قرآنی احکام بھی اب یوں نازل ہونا شروع ہوئے:

    "اورتم سے یہود اور نصاریٰ ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے دین کی پیروی نہیں کرو گے کہہ دو بے شک ہدایت الله ہی کی ہدایت ہے اور اگر تم نے ان کی خواہشوں کی پیروی کی اس کے بعد جو تمہارے پاس علم آ چکا تو تمہارے لیے الله کے ہاں کوئی دوست اور مددگار نہیں ہوگا۔" (سورة البقرة: 140)

    "اے ایمان والو یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ ان میں سے ہے الله ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔" (سورة المائدة: 51)

    "ان لوگوں سے لڑو جو الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اسے حرام جانتے ہیں جسے الله اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور سچا دین قبول نہیں کرتے ان لوگوں میں سے جو اہلِ کتاب ہیں یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔ اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر الله کا بیٹا ہے اور عیسائی کہتے ہیں مسیح الله کا بیٹا ہے یہ ان کی منہ کی باتیں ہیں وہ کافروں کی سی باتیں بنانے لگے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں الله انہیں ہلاک کرے یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔" (سورة التوبة: 29-30)

    اسی طرح احادیث میں بھی واضح ہے کہ نبی ﷺ پہلے جو اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے، اب ہر ہر معاملے میں ان کی مخالفت کا حکم دیتے اور ان کی مشابہت سے منع کرتے۔ چنانچہ فرمایا:
    "یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔" (مسند احمد: رقم 8657 / سنن ترمذی: رقم 1752)

    ایسے ہی اب مختلف معاملات میں یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا گیا۔ دیکھئے صحیح بخاری (رقم 3662، 5899)، صحیح مسلم (رقم 5510 دارالسلام) سنن ابوداؤد (رقم: 4203)، سنن نسائی (رقم 5075)، سنن ابن ماجہ (رقم 3621)، مسند احمد (رقم 22639)

    حتیٰ کہ کہا گیا :"یہود و نصاریٰ کو سلام میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کوئی راستے میں مل جائے تو اُسے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔"
    (صحیح مسلم، رقم5546  دارالسلام)

    امام ترمذی لکھتے ہیں: "بعض اہل علم کہتے ہیں: یہ اس لیے ناپسند ہے کہ پہلے سلام کرنے سے ان کی تعظیم ہوگی جب کہ مسلمانوں کو ان کی تذلیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح راستے میں آمنا سامنا ہو جانے پر ان کے لیے راستہ نہ چھوڑے کیونکہ اس میں بھی ان کی تعظیم ہے۔" (سنن ترمذی، تحت رقم  1602)

    اہل کتاب سے مخالفت و بیزاری کا معاملہ یہاں تک پہنچا کہ رسول کریم ﷺ نے ان سب کو عرب سے نکال دینے کی نصیحت فرمائی:
    "مَیں یہود و نصاریٰ کو ہر صورت جزیرۃ عرب سے نکال دوں گا۔ یہاں تک کہ مَیں مسلمانوں کے سوا کسی اور کو رہنے نہیں دوں گا۔"
    (صحیح مسلم،رقم 1767، دارالسلام 4594 / سنن ابوداؤد، رقم 3030)

    یہودیوں کی عرب سے جلاوطنی پہ الگ تفصیلی تحریر موجود ہے۔

    اس سارے پسِ منظر کو سامنے رکھتے ہوئے کئی اہم ترین سوالات پہ غور کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ قربانی کی سنتِ ابراہیمی دیگر اہل کتاب کی بجائے براہ راست مسلمانوں میں کیوں رائج ہوئی؟ عمرہ و حج کا سلسلہ مشرکین مانتے تھے لیکن حضرت ابراہیم کے سلسلے میں آنے والے دیگر انبیاء اور ان کے پیروکار یہود و نصاریٰ سرے سے ہی کیوں ان عبادات سے لاعلم رہے اور پھر مسلمانوں کو یہ عبادات اپنانے کا حکم ہوا؟ کعبہ و بیت اللہ کا تقدس کیوں یہود و نصاریٰ سے اوجھل رہا حتیٰ کہ نبیوں کا ایک لمبا سلسلہ بھی کبھی مکہ و حرم کے تقدس پہ توجہ نہ کر سکا۔ حتیٰ کہ خدا نے اپنے آخری نبی کے ذریعہ بھی اپنے مقدس ترین مقام کعبہ کو قبلہ بنانے کے لئے عرصہ وحی کا نصف سے زیادہ عرصہ انتظار کیا اور تب تک بیت المقدس ہی قبلہ بنا رہا کہ جسے یہود و نصاریٰ ہمیشہ سے مقدس مانتے آئے تھے۔پھر اپنے مقدس ترین مقام کعبہ و مسجد حرام کو بھی قبلہ اس لئے نہیں بنایا کہ یہود و نصاریٰ شاید اس کی عظمت کو بھلا چکے تھے یا اس سے منحرف ہو چکے تھے بلکہ اس لئے کہ

    "بے شک ہم آپ کے منہ کا آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں سو ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں پس اب اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجیئے." (سورة البقرة: 144)

    فائدہ: یہاں یہ بات بیان کرنا فائدے سے خالی نہ ہو گا کہ پورے مکی دور میں سورۃ ابراہیم میں حضرت ابراہیم کے حوالے سے صرف یہ تذکرہ ہوا کہ اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور انہوں نے خدا کے عزت وحرمت والے گھر کے پاس اولاد لا بسائی۔ (ابراهيم: 35، 37)

    مگر نبوی دور کے بارہ سال گزر جانے اور مدینہ ہجرت کے بعد اس حوالے سے کثرت سے آداب و احکامات کی ہدایات ملنے لگیں۔ دیکھئے البقرۃ (144، 147، 149، 189، 191، 196، 198)، آل عمران(97)، المائدہ (4، 95، 97)، الحج (26، 27) الانفال (34، 35)، التوبۃ (3، 7، 19، 28)، الفتح (45، 48)

    مسجد حرام و کعبہ کی عظمت و تقدس کا بھرپور اظہار، اسے قبلہ بنانا، اس کی طرف حج و عمرہ کی دعوت دینا، قربانی اور اس کے حوالے سے دیگر عبادات کے احکام سب مدینہ منورہ میں ہوئے۔

    یہاں تک کہ حضرت ابراہیم کے حوالے سے کہنا کہ یہی خدا کا پہلا گھر ہے، جو بابرکت اور تمام جہانوں کے لئے موجب ہدایت ہے، یہ مدینہ میں ہی بتایا گیا۔ (آل عمران: 96)

    اوپر بیان کردہ تمام سورتیں مدنی ہیں، ان میں سے سے صرف سورت الحج کے بارے اختلاف ہے لیکن جمہور اسے بھی مدنی ہی مانتے ہیں کیونکہ اس میں ہی حج، قربانی کے کچھ احکام دئے گئے جو بالاتفاق مدینہ میں ہی شروع ہوا۔ نیز اسی سورت میں مسلمانوں کو قتال کی اجازت دی گئی ہے کہ انہیں ناحق ان کے گھروں سے نکالا گیا ہے جو کہ ہجرت کے بعد کا ہی معاملہ ہے۔ دیکھئے الحج (39-40)

    واللہ اعلم

    (دوسرا حصہ)

    اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں اہل کتاب، بنی اسرائیل اور یہود و نصاریٰ کا جہاں جہاں تذکرہ ہے، اسے دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کا وہ حصہ یا سورتیں جو مکہ میں نازل ہوئیں اور دوسرا وہ حصہ یا سورتیں جو مدینہ میں نازل ہوئیں جہاں براہ راست اہل کتاب بالخصوص یہود سے واسطہ پڑا۔

    نبوت کے ابتدائی بارہ تیرہ سال جو مکہ میں گزرے وہاں اہل کتاب، ان کے علماء، ان کی کتب کے بارے بہت مثبت تذکرہ ملتا ہے، حتیٰ کہ انہیں بطور دلیل و حجت مشرکین مکہ پہ پیش کیا گیا۔ چنانچہ فرمایا گیا:
    "کہہ دو بتاؤ تو سہی اگر یہ کتاب الله کی طرف سے ہو اور تم اس کے منکر ہو اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ ایک ایسی کتاب پر گواہی دے کر ایمان بھی لے آیا اور تم اکڑے ہی رہے بے شک الله ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔" (سورة الأحقاف: 10)

    "حالانکہ اِس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آ چکی ہے، اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تاکہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے۔" (سورة الأحقاف: 12)

    "اِس سے پہلے ہم موسیٰؑ کو کتاب دے چکے ہیں، لہٰذا اُسی چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہیے اُس کتاب کو ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا۔" (سورة السجدة: 23)

    "ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے تاکہ اہل کتاب کو یقین آ جائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں۔" (سورة المدثر: 31)

    "تو کیا اللہ کے سوا کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں حالانکہ وه ایسا ہے کہ اس نے ایک کتاب کامل تمہارے پاس بھیج دی ہے، اس کے مضامین خوب صاف صاف بیان کئے گئے ہیں اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وه اس بات کو یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ بھیجی گئی ہے، سو آپ شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔" (سورة الأنعام: 114)

    اس سے بھی کہیں آگے بڑھ کے اہل کتاب کو خود نبی ﷺکی تسلی کے لئے پیش کیا:

    "اب اگر تجھے اُس ہدایت کی طرف سے کچھ بھی شک ہو جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تو اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں فی الواقع یہ تیرے پاس حق ہی آیا ہے تیرے رب کی طرف سے، لہٰذا تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔" (سورة يونس: 94)

    "کیا وه شخص جو اپنے رب کے پاس کی دلیل پر ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی طرف کا گواه ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (گواه ہو) جو پیشوا اور رحمت ہے۔" (سورة هود: 17)

    علاوہ ازیں مکی دور میں شاید ہی کسی جگہ اہل کتاب کے بارے شدید مذمت و نقد کی گئی ہو۔ اس کے مقابلے بنی اسرائیل و اہل کتاب کا مثبت ذکر مکی سورتوں میں اور بھی کئی جگہ موجود ہے۔ دیکھئے سورة الأحقاف (4،30)، سورة الأنعام (20، 92، 114، 154)، سورة فصلت (45)، سورة غافر (53، 70)، سورۃ فاطر (25،31)، سورة الصافات (117)، القصص (43)، سورة العنكبوت (27)، سورة المؤمنون (49)، سورة الإسراء (4)، سورة يونس (37)، سورة الجاثية (16)

    اس دور میں اہل کتاب سے جھگڑا و بحث کرنےتک سے  منع کیا گیا:

    "اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے، سوائے اُن لوگوں کے جو اُن میں سے ظالم ہوں، اور اُن سے کہو کہ ہم ایمان لائے ہیں اُس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اُس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی، ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرماں بردار ہیں۔ (اے نبیؐ) ہم نے اِسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے، اس لیے وہ لوگ جن کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور اِن لوگوں میں سے بھی بہت سے اس پر ایمان لا رہے ہیں، اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں۔
     (سورة العنكبوت: 47-46)

    حتیٰ کہ اہل کتاب کے بارے کہا گیا کہ ہمارے تمھارے درمیان کوئی جھگڑا ہی نہیں۔ چنانچہ فرمایا:
    "اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اُس پر ایمان لایا، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی، ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اُسی کی طرف سب کو جانا ہے" (سورة الشورى: 15)

    اسی طرح یہی نہیں کہ صرف ان کی کتاب کو بلکہ ان کے علماء کو بھی بطور دلیل پیش کیا گیا:
    "کیا ان کے لیے نشانی کافی نہیں کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں۔" (سورة الشعراء: 197)

    مگر مدینہ ہجرت کے بعد معاملہ بدلنے لگا اور بتدریج سنگین اور سخت ہونا شروع ہوا۔

    "اے اہلِ کتاب تحقیق تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے جو بہت سی چیزیں تم پر ظاہر کرتا ہے جنہیں تم کتاب سے چھاپتے تھے اوربہت سی چیزوں سے درگزرکرتا ہے بے شک تمہارے پاس الله کی طرف سے روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔" (سورة المائدة: 15)

    "وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی تھی وہ اسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بےشک کچھ لوگ ان میں سے حق کوچھپاتے ہیں اور وہ جانتے ہیں۔" (سورة البقرة: 146)

    "اکثر اہلِ کتاب تو اپنے حسد سے حق ظاہر ہونے کے بعد بھی یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح سے تمہیں ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹا کر لے جائیں سو معاف کرو اور درگزر کرو جب تک کہ الله اپنا حکم بھیجے بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے۔" (سورة البقرة: 109)

    "بے شک جو لوگ الله کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے اور اس کے بدلے میں تھوڑا سا مول لیتے ہیں یہ لوگ اپنے پیٹوں میں نہیں کھاتے مگر آگ اور الله ان سے قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔" 
    (سورة البقرة: 174)

    "کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا وہ بتوں اور شیطانوں کو مانتے ہیں اور کافروں سے یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں سے زیادہ راہِ راست پر ہیں۔" (سورة النساء: 51)

    معاملہ یہاں تک پہنچا کہ اہل کتاب پہ شدید غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا:

    "کہہ دو میں تم کو بتلاؤں الله کے ہاں ان میں سے کس کی بُری جزا ہے وہی جس پر الله نے لعنت کی اور اس پر غضب نازل کیا اور بعضوں کو ان میں سے بندربنا دیا اور بعضوں کو سور اورجنہوں نے شیطان کی بندگی کی وہی لوگ درجہ میں بدتر ہیں اور راہِ راست سے بھی بہت دور ہیں۔"
     (سورة المائدة: 60)

    غور و فکر کرنے والوں کے لئے یہ تبدیلی بڑی حیرت اور تعجب کا باعث بنتی ہے کہ مشرکین مکہ کے سامنے بطور دلیل و حجت بنا کر پیش کرنے سے معاملہ بتدریج یہاں تک آن پہنچا:

    "سو افسوس ہے ان لوگوں پر جو اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ الله کی طرف سے ہے تاکہ اس سے کچھ روپیہ کمائیں پھر افسوس ہے ان کے ہاتھوں کے لکھنے پر اور افسوس ہے ان کی کمائی ہر۔" (سورة البقرة: 79)

    "اور بے شک ان میں سے ایک جماعت ہے کہ کتاب کو زبان مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم یہ خیال کرو کہ وہ کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ الله کے ہاں سے ہے حالانکہ وہ الله کے ہاں سے نہیں ہے اور الله پر جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں۔"
     (سورة آل عمران: 78)

    اسی طرح اہل کتاب یہود و نصاریٰ کی شدید مذمت، ان پہ کفر اور انہیں کافر کہنے کا اظہار حتیٰ کہ ان پہ لعنت ملامت کا سلسلہ مدنی سورتوں میں کثرت سے ملتا ہے۔ دیکھئے سورة المائدة (14، 17، 57، 64، 70-80)، سورة البقرة (89)، سورة آل عمران (71، 78، 98، 100، 186-187)، سورة النساء (47)، سورة البينة (6،4،1) / الحدید (16،26،29)، سورة الحشر (2،11)، سورة الأحزاب (26)، سورة الجمعة (5)

    مکہ سے مدینہ جاتے جاتے اہلِ کتاب کے بارے انداز و فکر اور رویہ کی یہ تبدیلی ،  اس سب میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ 
    ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

    (شعیب محمد)

    في حدیث و تاریخ
    # اسلام اہل کتاب تاریخ اسلام قرآن یہود و نصاریٰ
    یہودیوں کی عرب سے جلاوطنی

    یہ ویب سائٹ علمی جستجو، مطالعہ اور فکری مباحث کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ یہاں آپ کو مذہب، تاریخ، عقیدہ و مسائل اور معاشی و مالی معاملات سے متعلق مضامین پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ قاری اپنے علم میں اضافہ کرے اور مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کر سکے۔ ہماری کوشش ہے کہ مواد سادہ، قابلِ فہم اور تحقیق پر مبنی ہو، تاکہ یہ ہر سطح کے قارئین کے لیے مفید ثابت ہو۔

    رابطہ کیجئے

    اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریریں  لکھنے والوں کی ذاتی آراء اور مطالعہ پر مبنی ہیں۔ کسی بھی ادارے، تنظیم یا جماعت کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ قاری اپنی سمجھ بوجھ اور تحقیق کے مطابق مواد سے استفادہ کرے۔

    • afkarenau@protonmail.com 
    Copyright © Company name
    مشغل بواسطة أودو - إنشاء موقع إلكتروني مجاني